شکیب ارسلان پسنی میں امن کی نئی صبح کے معمار
تحریر: قمبر حسین
بلوچستان کا ساحلی شہر پسنی طویل عرصے سے جرائم، منشیات، اور سماجی بے امنی جیسے چیلنجز سے نبرد آزما رہا ہے۔ یہ علاقہ ایک طرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، تو دوسری طرف ریاستی توجہ کی کمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے جرائم کی آماجگاہ بنتا رہا۔ ایسے میں اگر کسی نے امن اور قانون کی بالادستی کو ممکن بنایا، تو وہ نام ہے شکیب ارسلان کا، جو حالیہ دنوں میں پسنی کے ایس ایچ او کے طور پر تعینات رہے۔
شکیب ارسلان کا تعلق بلوچستان کے اہم اور حساس شہر تربت سے ہے۔ وہ ایک نڈر، دیانت دار اور عوام دوست پولیس آفیسر ہیں، جنہوں نے محدود وسائل، دباؤ اور خطرات کے باوجود اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر نبھایا۔ وہ نہ صرف ایک عام پولیس افسر ہیں، بلکہ ایک وژنری شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے پولیسنگ کو محض وردی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔
پسنی جیسے علاقے میں جہاں جرائم کے سراغ لگانا بھی ایک چیلنج ہو، وہاں شکیب ارسلان نے جرائم کے خلاف ایک منظم اور مربوط حکمت عملی اختیار کی۔ انہوں نے ایسے کئی بلائنڈ کیسز (جن میں مجرموں کا کوئی سراغ نہیں ہوتا) نہ صرف حل کیے، بلکہ اصل مجرموں کو قانون کے شکنجے میں بھی لایا۔ ان کی قیادت میں پولیس نے انسانی ہمدردی کے پہلو کو بھی مدنظر رکھا، جہاں صرف گرفتاری نہیں بلکہ اصلاح اور بازآبادکاری پر بھی زور دیا گیا۔
منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائیاں، غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، اور چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کو بےنقاب کرنے جیسے اقدامات نے پسنی میں پولیس کی ساکھ کو ایک نئی جہت دی۔ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوا اور شکیب ارسلان کا نام شہریوں کی زبان پر عزت و تکریم کے ساتھ لیا جانے لگا۔
شکیب ارسلان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی "عوامی رسائی” ہے۔ وہ تھانے کی چار دیواری تک محدود نہیں رہے، بلکہ گلیوں، بازاروں، اور محلوں میں خود جا کر عوام کی سننے اور ان کے مسائل کے فوری حل کو ترجیح دی۔ نوجوانوں کے ساتھ کھلے ڈائیلاگ، علمائے کرام کے ساتھ مشاورت، اور مقامی نمائندوں کے ساتھ مل کر سیکیورٹی کے بہتر نظام کی تشکیل نے پسنی کو امن کی راہ پر گامزن کیا۔
ایمانداری، بہادری اور معاملہ فہمی شکیب ارسلان کے وہ جوہر ہیں جنہوں نے انہیں محض ایک پولیس افسر نہیں، بلکہ ایک کردار بنا دیا ہے۔ ان کی شخصیت نوجوان افسران کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کا طرز عمل اس بات کا مظہر ہے کہ اگر نیت صاف ہو، ارادے مضبوط ہوں اور جذبہ خدمت موجود ہو، تو کوئی بھی نظام بدلا جا سکتا ہے۔
آج پسنی کے عوام جنہیں پہلے ہر قدم پر خوف، بےاعتمادی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا، ایک نئے اعتماد کے ساتھ جیتے ہیں۔ اس تبدیلی کا سہرا براہ راست شکیب ارسلان جیسے آفیسرز کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ بلوچستان پولیس میں شکیب ارسلان جیسے مزید افسران ابھریں گے، تاکہ ہر پسنی، ہر تربت، ہر گوادر اور ہر نوشکی امن، ترقی اور انصاف کی راہ پر گامزن ہو۔
