اسرائیل کا غزہ امداد لے جانے والی کشتی ’حنظله‘ پر دھاوا

Share

اسرائیل فوج نے فلسطین کے حامی کارکنوں کے ایک گروپ کی غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتی ’فریڈم فلوٹیلا‘ پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے کو مذکورہ گروپ نے براہ راست نشر بھی کیا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایکس پر بتایا ’اسرائیلی بحریہ نے کشتی ’ناورن‘ کو غزہ کے ساحلی سمندری زون میں غیر قانونی داخلے سے روک دیا۔

بیان کے مطابق: ’کشتی اب محفوظ طریقے سے اسرائیلی ساحل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تمام مسافر محفوظ ہیں۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فلسطینی حامی گروپ کی نشریات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب اسرائیلی فوجی کشتی پر دھاوا بول کر اس کا کنٹرول سنبھال رہے تھے تو رضاکار اس کے عرشے پر بیٹھے ہاتھ بلند کر کے اطالوی مزاحمتی نغمہ ’بیلا چاؤ‘ گا رہے تھے۔

چند ہی منٹ بعد تینوں لائیو ویڈیو فیڈز بند ہو گئیں۔ یہ کشتی غزہ کے فلسطینی شہریوں کے لیے کچھ مقدار میں انسانی امداد لے جا رہی تھی۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا ’حنظله‘ نامی کشتی کو بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی افواج نے غیر قانونی طور پر روکا اور اس پر چڑھائی کی۔‘

اسرائیل پہلے ہی یہ اعلان کر چکا تھا کہ وہ غزہ پر اپنی ناکہ بندی کو نافذ رکھے گا۔ اسرائیلی بیان میں کہا گیا ’غزہ کا محاصرہ توڑنے کی غیر مجاز کوششیں خطرناک، غیر قانونی اور جاری انسانی امدادی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔‘

آن لائن دستیاب ایک ٹریکنگ ٹول کے مطابق ’حنظله‘ اس وقت روکی گئی جب وہ مصری ساحل سے تقریباً 50 کلومیٹر اور غزہ کے مغرب میں 100 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔

کشتی پر 19 کارکن سوار تھے جن میں یورپی سیاست دان اور الجزیرہ کے دو صحافی بھی شامل تھے۔

صحافیوں نے اسرائیلی مداخلت سے کچھ دیر پہلے تک کشتی سے براہ راست نشریات جاری رکھی تھیں۔

فرانس کی دو ارکان پارلیمنٹ ایما فوریو اور گیبریئل کتھالا بھی زیر حراست افراد میں شامل تھیں۔

فرانسیسی پارٹی کے رہنما ژاں لوک میلینشوں نے اسرائیلی وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ’نتن یاہو کے غنڈوں نے ’حنظله‘ پر چڑھائی کی۔ وہ ایسی علاقائی حدود میں 21 غیر مسلح افراد پر حملہ کر رہے ہیں جہاں ان کا کوئی حق نہیں۔

’یہ اغوا ہے جس میں دو فرانسیسی پارلیمنٹیرین بھی متاثرہ ہیں۔‘ میلینشوں نے فرانسیسی حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غزہ کو خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ اور امدادی تنظیمیں قحط کے خطرے سے خبردار کر چکی ہیں۔

’حنظله‘ کے عملے نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ اگر اسرائیلی فوج نے کشتی روکی اور مسافروں کو حراست میں لیا، تو وہ بھوک ہڑتال کریں گے۔

اس سے قبل فریڈم فلوٹیلا کی بھیجی گئی آخری کشتی ’میڈلین‘ کو اسرائیلی فوج نے نو جون کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا تھا اور اسے اسرائیلی بندرگاہ اشدود کی جانب لے جایا گیا تھا۔

اس پر 12 کارکن سوار تھے، جن میں مشہور سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں اسرائیل نے ان کارکنوں کو ملک بدر کر دیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق سب سے خوں ریز واقعہ 31 مئی، 2010 کو پیش آیا جب اسرائیلی کمانڈوز نے بین الاقوامی پانیوں میں ترک کشتی ’ماوی مرمرہ‘ پر چڑھائی کی۔

یہ کشتی بھی فریڈم فلوٹیلا کا حصہ تھی اور غزہ جا رہی تھی۔ اسرائیلی کارروائی میں 10  ترک شہری مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

اس واقعے پر دنیا بھر میں شدید ردعمل آیا اور ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آزادکشمیر: تیندوا گھر سے 8 سالہ بچی کو اٹھا کر لےگیا، بچی مردہ حالت میں برآمد

اتوار جولائی 27 , 2025
Share آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب تیندوا آبادی میں گھس آیا اور ایک گھر پر حملہ کرکے ایک بچی کو اٹھالے گیا۔ رپورٹ کے مطابق افسوسناک واقعہ آزاد کشمیر کے ضلع ہٹیاں بالا میں لائن آف کنٹرول کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق تیندوا گھر کے […]

You May Like