لاہور میں سجے الیکٹرک گاڑیوں کے میلے میں سبز ٹرام مرکز نگاہ

Share

لاہور کے ایکسپو سینٹر میں منعقدہ پنجاب کی پہلی ٹرانسپورٹ ایکسپو 2025 میں موجود ماحول دوست بسوں اور گاڑیوں کے درمیان سبز رنگ کی الیکٹرک ٹرام مرکز نگاہ رہی۔

چار ستمبر کو شروع ہونے والی اس دو روزہ ایکسپو میں ملکی و غیر ملکی ٹرانسپورٹ پروڈکٹس بنانے والی کمپنیوں نے شرکت کی۔

الیکٹرک ٹرام ہال میں سب سے پہلے کھڑی تھی اور داخل ہونے والوں کی نظر سب سے پہلے اسی پر پڑ رہی تھی۔

پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے چیف ٹیکنیکل اور چیف آپریٹنگ آفیسر کامران احسان نے بتایا کہ یہ ٹرام ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ کا ایک اقدام ہے، جو اورنج لائن ٹریک ٹھوکر سے نہر تک کے روٹ پر چلے گی۔

کامران احسان نے بتایا کہ ’یہ سپر اٹانومس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ہے، جس میں ایک رائیڈ میں 300 مسافر بیٹھ سکتے ہیں۔‘

ٹیکنیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ اس ٹرام کا روٹ ابھی طے کیا جا رہا ہے۔ ’ابھی یہ فزی بیلٹی کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور رونمائی اور ٹیسٹنگ کے لیے منگوائی گئی ہے۔ اس کی ٹیسٹنگ کا افتتاح کچھ روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کیا تھا۔‘

کامران احسان نے بتایا کہ ’یہ ٹرام مکمل الیکٹرک ہے اور مسافروں کی گنجائش زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی فی رائیڈ قیمت کم ہے۔ ہر دن ایک لاکھ 60 ہزار مسافر اس میں سفر کریں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے سی ٹی او نے ٹرانسپورٹ ایکسپو کو ’اپنی نوعیت کا پہلا ایکسپو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ پاکستان میں پہلی بار ہو رہا ہے، جس میں ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی کو شائقین کے لیے رکھا گیا ہے، جس میں نجی اور حکومتی سیکٹر دونوں شرکت کر رہے ہیں۔‘

کامران احسان نے بتایا ایکسپو میں مختلف ٹیکنالوجی پر مبنی سولوشنز کو بھی رکھا گیا ہے، جس میں آٹو میٹرس فیئر کلیکشن سسٹم بھی شامل ہے، جس میں ایک یونیورسل کارڈ ہوگا، جس سے پنجاب کی کسی بھی ماس ٹرانزٹ بس میں سفر کے دوران کرایہ کٹے گا۔

اس کے علاوہ روڈ سیفٹی سے متعلق بھی ایکسپو میں بہت سے سٹالز لگائے گئے، جن میں سیف سٹی اتھارٹی، موٹر وے پولیس اور پنجاب روڈ سیفٹی اتھارٹی کے سٹالز بھی شامل تھے۔

ایکسپو میں الیکٹرک گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی رکھی گئی تھیں۔

بہت سے طالب علم بھی اپنی اپنی یونیورسٹیوں کی جانب سے ایکسپو میں شریک ہوئے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ یہاں یہ دیکھنے آئے ہیں کہ یہ الیکٹرک بسیں کس حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ مستقبل الیکٹرک بسوں اور گاڑیوں کا ہی ہے اور اسی طرح ماحول کو آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے۔

اس ایکسپو میں مستقبل میں بننے والے ماس ٹرانزٹ کے منصوبوں کے ماڈلز بھی رکھے گئے تھے، جن میں گجرانوالہ اور خاص طور پر راولپنڈی کے منصوبے شائقین کی دلچسپی کا باعث بنے۔

  پنجاب ٹرانسپورٹ ایکسپو پانچ ستمبر تک جاری رہے گی تاکہ لوگ الیکٹرک وہیکلز اور دیگر پروڈکٹس کے بارے میں قریب سے جان سکیں اور ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی بجائے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی طرف رحجان پیدا کر سکیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

خیبر پختونخوا پریس قوانین میں ترامیم سے کیا شفاف نگرانی ممکن ہو گی؟

جمعہ ستمبر 5 , 2025
Share خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی اسمبلی سے پریس اینڈ نیوز پیپرز قوانین میں ترامیم منظور کر کے ٹی وی اور اخبارات کے علاوہ اب ڈیجیٹل میڈیا کو بھی اس قانون کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ ترامیم خیبر پختونخوا پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بک رجسٹریشن ایکٹ 2013 […]

You May Like