تحریر: ماہ نور شاہ
عالمی یومِ مادری زبان شناخت اور ثقافت کی بنیاد
ہر سال 21 فروری کو دنیا بھر میں عالمی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا، لسانی تنوع کو فروغ دینا اور دنیا کی مختلف زبانوں کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔ زبان صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ کسی بھی قوم کی شناخت، تاریخ، تہذیب اور روایات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
مادری زبان وہ پہلی زبان ہے جو انسان اپنے گھر کے ماحول میں سیکھتا ہے۔ ماں کی لوری، بچپن کی باتیں، خوشی اور غم کے جذبات سب سے پہلے اسی زبان میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مادری زبان انسان کے دل کے سب سے قریب ہوتی ہے۔ تحقیق سے بھی ثابت ہے کہ بچے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کریں تو ان کی سیکھنے کی صلاحیت اور خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔
دنیا میں اس وقت ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں، مگر افسوس کہ بہت سی زبانیں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ جب کوئی زبان ختم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک مکمل ثقافت، روایات اور علم کا خزانہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زبانوں چاہے وہ اردو ہو، بلوچی، براہوی، پشتو، سندھی یا پنجابی سب کا احترام کریں اور انہیں فروغ دیں۔
چونکہ میں ایک بلوچ ہوں تو میری مادری زبان بلوچی ہے
پاکستان جیسے کثیرالثقافتی ملک میں لسانی ہم آہنگی نہایت اہم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مادری زبان پر فخر کریں، اسے روزمرہ زندگی میں استعمال کریں اور نئی نسل کو بھی اس سے جوڑے رکھیں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مادری زبان ہماری پہچان کی بنیاد ہے۔ اس کی حفاظت اور ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنی زبانوں کو زندہ رکھیں گے تو اپنی ثقافت اور شناخت کو بھی محفوظ رکھ سکیں گے۔

