|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ امریکی صدر کی ایران کو مہلت آج ختم ہو رہی ہے۔ اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔ |
رات 10 بج کر 10 منٹ
پورا ایران ایک رات میں ’تباہ کیا جا سکتا ہے اور وہ رات کل کی بھی ہو سکتی ہے‘: ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی ایئرمین ریسکیو مشن کی تفصیلات بتا رہے تھے۔
ان موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران کو ’ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور یہ رات کل بھی ہو سکتی ہے۔‘
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر ثالثوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
ایک صحافی نے پوچھا کہ آیا وہ توقع کرتے ہیں کہ جے ڈی وینس پاکستان میں ثالثوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا: ’جی ہاں، وہ بات کر رہے ہیں، اور ہمارے پاس سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی بات کر رہے ہیں۔ وہ سب اکھٹے ہیں اور بات چیت کر رہے ہیں۔‘
صحافی کے پوچھنے پر کہ کیا جے ڈی وینس کسی روبرو ملاقات کا حصہ بن سکتے ہیں، ٹرمپ نے کہا: ’یہ ممکن ہے۔‘
ٹرمپ نے ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کی تفصیل کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے ایران میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ 37 دنوں کے دوران امریکہ کی مسلح افواج نے ایران کے اوپر 10 ہزار سے زائد جنگی پروازیں کیں جو ایک غیر معمولی بات ہے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے ایران میں گرایا جانے والا امریکی ایف-15 طیارہ ’اس پورے آپریشن کے دوران دشمن کی جانب سے مار گرایا جانے والا پہلا انسانی عملے والا طیارہ تھا۔‘
رات 10 بج کر 10 منٹ
اردن پر ایرانی میزائل اور ڈرونز سے دو افراد زخمی
اردن کی مسلح افواج نے پیر کہا ہے کہ ایران نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں تین ڈرونز اور ایک میزائل داغے جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی اور املاک کو نقصان پہنچا۔
مقامی اخبار ’جارڈن ٹائمز‘ کے مطابق اردن ایئر فورس نے دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تاہم ایک ڈرون اور میزائل کو روکنے میں ناکامی ہوئی۔
حکام کے مطابق اس حملوں میں ایک زخمی شخص کو ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دوسرے کو موقع پر طبی امداد دی گئی اور اس کی حالت بہتر ہے۔
اردنی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اردن کو کم از کم 240 میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں سے زیادہ تر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
رات نو بج کر 15 منٹ
دکانیں 8 بجے، رسٹورینٹس، میرج ہالز 10 بجے بند: وزیر اعظم پاکستان
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اجلاس میں کاروباری اوقات سے متعلق درج ذیل فیصلے کیے گئے۔
• پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند ہوں گے
• دکانیں، ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور مالز رات 8 بجے، بیکریاں، ریسٹورنٹ، تندور، میرج ہالز رات 10 بجے بند کیے جائیں گے۔
• میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گی۔
رات آٹھ بج کر 45 منٹ
ایران کے لیے منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے دی گئی منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے جبکہ تہران کی جانب سے دی گئی پیشکش کو انہوں نے اہم مگر ناکافی قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ایسٹر کی سالانہ تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی پیشکش ایک ’اہم قدم ہے تاہم یہ اب بھی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتی۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر ایران ضروری اقدامات کر لے تو جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت ان شرائط سے آگاہ ہے اور ان کے مطابق مذاکرات بظاہر نیک نیتی کے ساتھ جاری ہیں۔ روئٹرز
رات آٹھ بج کر 15 منٹ
فیول سبسڈی سکیم جلد فعال بنانے کی ہدایت، موٹر سائیکل رجسٹریشن ایپ لانچ
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے فیول سبسڈی سکیم سے متعلق نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سکیم کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور صوبائی حکام کے تعاون سے پبلک سروس ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے سبسڈی کی ادائیگی کا آغاز ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ موٹر سائیکل سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کی موبائل ایپ بھی لانچ کر دی گئی ہے جبکہ ادائیگی کا عمل آج شام سے شروع ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس کے دوران صوبائی نمائندوں نے سکیم پر پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ نائب وزیر اعظم نے زور دیا کہ سبسڈی کا نظام سادہ، قابل رسائی، شفاف اور وسیع پیمانے پر تشہیر شدہ ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اجلاس میں وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام، معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری آئی ٹی، سیکرٹری پیٹرولیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
بعد ازاں نائب وزیر اعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کو مضبوط بنانے کے لیے اہم آئی ٹی اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں انہیں ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، جدت کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل گورننس کو مؤثر بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
رات آٹھ بجے
اسحاق ڈار کا برطانیہ وزیر سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ ہمیش فالکونر سے ٹیلیفون پر گفتگو میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق برطانوی وزیر مملکت نے پاکستان کی طرف سے خطے میں امن اور استحکام کے لیے بات چیت اور سفارتکاری کی کوششوں کو سراہا۔
دونوں فریقین نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کی مضبوطی کا اعادہ کیا اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
شام سات بجے
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 45 روزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط نہیں کیے: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ 45 روزہ جنگ بندی کے لیے ایک معاہدہ زیر غور ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس تجویز پر دستخط نہیں کیے اور فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اے ایف پی نے امریکی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ثالثوں کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے سلسلے میں 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز واشنگٹن کو موصول ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ کئی تجاویز میں سے ایک ہے اور صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس پر دستخط نہیں کیے۔ آپریشن ایپک فیوری جاری ہے۔‘
شام چھ بج پر 10 منٹ
ڈیزل کے سٹاک 25 دن، خام تیل کے سٹاک 12 دن کے لیے کافی ہیں: حکومت پاکستان
پیٹرولیم قیمتوں پر نظر رکھنے والی وفاقی کابینہ کمیٹی نے پیر کو بتایا ہے کہ ملک میں ڈیزل کے سٹاک تقریباً 25 دن اور خام تیل کے سٹاک تقریباً 12 دن کے لیے کافی ہیں جبکہ پیٹرول کی دستیابی موجودہ طلب کو پورا کرنے کے لیے مناسب مقدار میں موجود ہے۔
فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی جس میں ایندھن کی حالیہ قیمتوں میں تبدیلی کے بعد سپلائی چین، سٹاک کی دستیابی اور ریفائنریز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ ذخیرہ اندوزی، قیاسی رویوں اور مصنوعات کی دستیابی میں کسی بھی خلل کو فوری طور پر روکا جائے۔
وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام نے گیس کی سپلائی، سٹاک اور گھریلو و پاور سیکٹر کے لیے مناسب تقسیم کے حوالے سے بھی تفصیلی بات چیت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈیٹا پر مبنی متوازن حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں کہا بتایا گیا کہ ڈیٹا رپورٹنگ کی موجودہ صورتحال توقعات سے کم ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز سے کہا گیا کہ وہ فوری اور درست معلومات فراہم کریں تاکہ سپلائی میں شفافیت اور بروقت فیصلہ سازی ممکن ہو۔
وفاقی وزیر خزانہ نے اوگرا اور پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کو ہدایت کی کہ وہ ریٹیل نیٹ ورک میں رپورٹنگ کو مضبوط کریں اور مشترکہ ٹیموں کے ذریعے منتخب پمپوں پر سٹاک شفافیت اور آپریشنل تعمیل کو یقینی بنائیں۔
کمیٹی نے مارکیٹ استحکام، سپلائی کی تسلسل اور صارفین کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا اور زور دیا کہ تمام اقدامات شفافیت اور مؤثر نگرانی کے تحت نافذ کیے جائیں۔
شام چھ بجے
ایرانی جوہری پلانٹ کے قریب فوجی حملے شدید ریڈیولوجیکل خطرہ ہیں: اے آئی اے ای
بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب حالیہ فوجی حملوں کے اثرات پڑے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایٹمی نگرانی کرنے والی ایجنسی نے مزید بتایا کہ یہ تصدیق نئی سیٹلائٹ امیجز اور سائٹ کے تفصیلی مطالعے کی بنیاد پر کی گئی ہے، جس میں ایک حملہ سائٹ کے بیرونی حصے سے صرف 75 میٹر کے فاصلے پر ہوا۔
Based on its independent analysis of new satellite imagery and detailed knowledge of the site, the IAEA can confirm recent impacts of military strikes close to Iran’s Bushehr Nuclear Power Plant (BNPP), including one just 75 metres from the site perimeter. The BNPP itself has not… pic.twitter.com/zWpp3IaFLW
— IAEA – International Atomic Energy Agency (@iaeaorg) April 6, 2026
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسّی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ ایک فعال جوہری پلانٹ ہے جس میں بڑی مقدار میں ایٹمی ایندھن موجود ہے اور کے قریب جاری فوجی سرگرمیاں شدید ریڈیولوجیکل حادثے کا باعث بن سکتی ہیں، جس کے ایران اور اس سے باہر لوگوں اور ماحول پر نقصان دہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایجنسی نے مزید کہا کہ ’چاہے حملوں کے مقاصد کچھ بھی ہوں، ڈائریکٹر جنرل گروسّی کے مطابق ایسے حملے ایٹمی تحفظ کے لیے بہت حقیقی خطرہ ہیں اور یہ فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔‘
شام پانچ بج کر 40 منٹ
امن عمل جاری ہے، سیزفائز فریم ورک یا 15 نکاتی رپورٹس کو کنفرم یا ڈینائے نہیں کرتے: پاکستان
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے آج ان رپورٹس کو کنفرم یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایران کے خلاف جاری امریکہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک تجویز کیا ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ’کچھ رپورٹس ہیں جن میں 45 دن کی سیزفائز پیشکش یا 15 نکات کی بات ہے، ہم ان انفرادی، مخصوص واقعات پر کمنٹ نہیں کرتے، ہمارا پوائنٹ یہ ہے کہ امن عمل جاری ہے۔‘
شام پانچ بجے
امریکی ایئر مین ریسکیو آپریشن افزودہ یورینیم چوری کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے: ایران
ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے ایران میں گرنے والے طیارے کے ایئر مین کو بازیاب کرانے کے لیے کیا جانے والا امریکی آپریشن دراصل افزودہ یورینیم چوری کرنے کا ’کور مشن‘ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے ایران میں گرنے والے ایف-15 ای طیارے کے دوسرے عملے کے رکن کو ایک ’جرات مندانہ‘ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے ذریعے بازیاب کر لیا۔
پیر کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس آپریشن کے حوالے سے ’کئی سوالات اور غیر یقینی صورت حال‘ موجود ہیں۔
ایرانی ترجمان کے مطابق جس مقام پر امریکی پائلٹ کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا، وہ اس علاقے سے کافی فاصلے پر ہے جہاں امریکی فورسز نے وسطی ایران میں لینڈ کرنے یا اپنی فورسز اتارنے کی کوشش کی۔
اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ امکان بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ افزودہ یورینیم چوری کرنے کے لیے ایک دھوکہ دہی پر مبنی آپریشن تھا۔ انہوں نے کہا امریکہ کے لیے یہ ’ایک تباہ کن‘ آپریشن ثابت ہوا۔
ایرانی فوج کے مطابق اس مشن کے دوران نشانہ بننے کے بعد متعدد امریکی طیاروں کو صوبہ اصفہان کے جنوبی علاقوں میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی جس کے بعد امریکہ کو اپنے گرنے والے طیارے کو شدید بمباری کر کے تباہ کرنا پڑا۔ اے ایف پی
سہ پہر چار بج کر 20 منٹ
پاکستان اور پرتگال کا علاقائی کشیدگی میں کمی پر زور
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو پرتگال کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور پاؤلو رینجل سے ٹیلیفون پر گفتگو میں خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے میں کشیدگی میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا۔
پرتگال کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ میں حکومت پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت اور تعریف کی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کو بھی سراہا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
دوپہر تین بج کر 20 منٹ
علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کی حمایت: جاپانی وزیر خارجہ
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو آج جاپان کے وزیرِ خارجہ توشی متسو موٹیگی کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔
دفتر خارجہ پاکستان کا بیان میں کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی صورتحال اور وسیع تر خطے پر تبادلہ خیال کیا اور فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیرِ خارجہ موٹیگی نے علاقائی امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری میں سہولت کاری کے حوالے سے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور اس کی حمایت کی۔
دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
دن ایک بج کر 30 منٹ
پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف کو مار ڈالا، اسرائیل کا دعویٰ
اسرائیل نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف کو مار ڈالا ہے۔
یہ اعلان اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کیا۔
کاٹز نے کہا کہ ’ایران کے رہنما خود کو نشانے پر محسوس کر رہے ہیں۔ ہم انہیں تلاش کرتے اور چن چن کر ختم کرتے رہیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران کی سٹیل اور پیٹروکیمیکل صنعتوں کو بھی ’شدید نقصان‘ پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایرانی قومی انفراسٹرکچر کو تباہ کرتے رہیں گے۔‘
دن 12 بج کر 15 منٹ
پاکستان کا تیار کردہ جنگ بندی کا منصوبہ امریکہ اور ایران کے حوالے: روئٹرز
خبر رساں ادارے روئٹرز نے پیر کو ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ فوری جنگی بندی کے لیے امریکہ اور ایران کو ایک منصوبہ موصول ہوا ہے جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے لیے ایک فریم ورک پاکستان نے تیار کیا ہے اور راتوں رات ایران اور امریکہ کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ اس میں دو مرحلوں پر مشتمل حکمتِ عملی شامل ہے: پہلے فوری جنگ بندی، جس کے بعد ایک جامع معاہدہ کیا جائے گا۔
ذرائع نے کہا کہ ’تمام نکات پر آج ہی اتفاق ضروری ہے‘ اور ابتدائی مفاہمت کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دی جائے گی، جسے پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طور پر حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ مذاکرات میں پاکستان واحد رابطہ ذریعہ ہے۔
اس سے قبل امریکی ویب سائٹ ایکسیو نے اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر بات کر رہے ہیں، جو دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے اور بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے تک لے جا سکتی ہے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پوری رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔
اس تجویز کے تحت فوری جنگ بندی نافذ ہو گی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اس مجوزہ معاہدے کو عارضی طور پر ’اسلام آباد معاہدہ‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک شامل ہوگا اور حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔
امریکہ اور ایران کے حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
ایرانی حکام اس سے قبل روئٹرز کو بتا چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی چاہتا ہے، جس کے ساتھ یہ ضمانت ہو کہ امریکہ اور اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت مختلف ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے وعدے کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہوگی۔
دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ سفارتی اور عسکری سطح پر کوششوں میں تیزی کے باوجود ایران نے تاحال حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک ذریعے نے کہا کہ ’ایران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا‘، اور مزید بتایا کہ پاکستان، چین اور امریکہ کی حمایت یافتہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر بھی تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
چینی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ تازہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں تنازع کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر جلد جنگ بندی نہ ہوئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
اس تنازع نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے، اور تاجر اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کوئی بھی پیش رفت آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔
صبح 9 بج کر32 منٹ
یو اے ای میں میزائل حملے اور پاکستانی شہریوں کی زخمی ہونے پر شہباز شریف کی تشویش
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کی خور فکان بندرگاہ کی جانب فائر کیے گئے میزائل حملوں اور ان کو گرائے جانے کے دوران پاکستانی شہریوں سمیت دیگرافراد کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہباز شریف نے پیر کو ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’ہم اپنے شہریوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے اماراتی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں۔‘
انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ کہ پاکستان، متحدہ عرب امارات کے برادر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ’خطے میں تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔‘
Deeply concerned at the incident at Khor Fakkan port in the UAE, where an intercepted projectile caused injuries to civilians, including Pakistani nationals.
We pray for the swift recovery of the injured and remain in close contact with UAE authorities to ensure all necessary…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 6, 2026
صبح 8 بجے
امریکہ، ایران اور ثالث 45 دن کی جنگ بندی کے لیے بات چیت کر رہے ہیں: Axios
چار امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع نے خبر رساں ادارے ایکسی اوس کو بتایا کہ مذاکرات کے بارے میں علم رکھنے والے چار امریکی، ایران اور علاقائی ثالثوں کا ایک گروپ ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت اور اس کے نتیجے میں ممکنہ سیز فائر جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔
’لیکن یہ آخری کوشش جنگ میں ڈرامائی اضافے کو روکنے کا واحد موقع ہے جس میں ایرانی شہری بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملے اور خلیجی ریاستوں میں توانائی اور پانی کی سہولیات کے خلاف انتقامی کارروائیاں شامل ہوں گی۔
صبح 7 بج کر 30 منٹ
تہران پر فضائی حملے میں کم از کم 13 اموات: فارس نیوز
ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوز کے مطابق دارالحکومت تہران کے جنوب مشرق میں رہائشی علاقے پر حملے میں کم از کم 13 افراد ہلجان سے گئے۔
صبح 7 بج کر 25 منٹ
ایران میں یونیورسٹی پر حملہ، گیس کی ترسیل معطل
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے پیر کو اطلاع دی ہے کہ ایک یونیورسٹی پر حملے کے بعد تہران کے کچھ حصوں کو گیس کی بندش نے متاثر کیا جپ۔
سرکاری نشریاتی ادارے ایریب نے تہران کے ڈسٹرکٹ 9 محلے کے سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ حملہ ’شریف یونیورسٹی گیس سٹیشن پر ہوا اور ہمیں شریف محلے میں گیس کی عارضی بندش کا سامنا ہے۔‘
صبح 7 بجے
شہری اہداف کو نشانہ بنایا گیا تو ‘بہت زیادہ تباہ کن’ جوابی کارروائی کی جائے گی: ایران کی دھمکی
ایران کی سنٹرل ملٹری کمانڈ نے پیر کو خبردار کیا کہ اگر اس کے مخالفین نے شہری اہداف کو نشانہ بنایا تو ’بہت زیادہ تباہ کن‘ جوابی کارروائی کی جائے گی۔
اے ایف پی کے مطابق، خاتم الانبیا سنٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے ٹیلی گرام پر سرکاری نشریاتی ادارے ایریب کی طرف سے پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا، ’اگر شہری اہداف پر حملے دہرائے گئے تو ہماری جارحانہ اور جوابی کارروائیوں کے اگلے مرحلے بہت زیادہ تباہ کن اور وسیع ہوں گے۔‘
یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں تہران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ خلیج کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے لیے اپنے مطالبات کے سامنے جھک جائے۔
ایران نے پیر کو مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک پر حملے کیے ہیں اور ’تباہ کن‘ جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
اسرائیل، کویت اور متحدہ عرب امارات نے پیر کی صبح سویرے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
صبح 6 بج کر 30 منٹ
فضائی دفاعی نظام میزائلوں، ڈرونز کے خلاف فعال ہے: کویتی فوج
کویت کی فوج نے پیر کو کہا کہ اس کا فضائی دفاع خلیجی ملک کی سرزمین پر فائر کیے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
کویتی فوج نے ایکس پر پوسٹ مٰن کہا کہ ’کویتی ایئر ڈیفنس اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون کے خطرات کا جواب دے رہے ہیں۔‘
ملک نے پہلے کہا تھا کہ وہ اتوار سے پیر تک راتوں رات اسی طرح کے حملوں کا جواب دے رہا ہے۔


