کراچی: 51 مخدوش عمارتیں گرانے کا فیصلہ، ڈی جی معطل

Share

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے لیاری میں گذشتہ جمعے کو زمین بوس ہونے والی رہائشی عمارت کی تحقیقات جاری ہیں اور پیر کو سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر میں 51 خستہ حال عمارتوں کو منہدم کر دیا جائے گا۔

لیاری میں واقع بغدادی محلے میں گرنے والی پانچ منزلہ رہائشی عمارت سے 27 افراد کی جان گئی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت پیر کو ایک اجلاس ہوا جس میں اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے 2022 سے اب تک سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے جتنے بھی افسران رہے ہیں انہیں انکوائری میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سندھ وزیراطلاعات شرجیل میمن اور وزیر بلدیات سعید غنی نے اجلاس کے بعد پیر کو پریس کانفرنس میں کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کا دائرہ بڑھا کر اس میں کمشنر کو شامل کیا گیا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ’وزیر اعلٰی سندھ نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو معطل کر دیا ہے۔‘

حکومت سندھ نے اس معطلی کے کچھ ہی دیر بعد شاہ میر خان بھٹو کو بطور نئے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
 

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے کے ان افراد وزیر بلدیات نے پہلے ہی معطل کر چکے ہیں جو اس علاقے میں تعینات تھے۔

انہوں نے کہا کہ مقدمہ درج کروانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور جس افسر کی بھی لاپرواہی ظاہر ہوئی اس کو مقدمے میں شامل کیا جائے گا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی ایک اور کمیٹی بنائی گئی ہے۔ ’کراچی میں مزید کتنی عمارتیں مخدوش ہیں کمشنر کو ذمہ داری دی ہے کہ چیک کریں۔ ان عمارتوں میں کتنے لوگ مقیم ہیں، ان کو ری ہیبلیٹیشین کیسے کی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کمیٹی دو دن میں رپورٹ دے گی، فوری طور پر سخت قسم کی کارروائی ہو گی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ شہر میں 588 مخدوش عمارتیں ہیں۔ 

وزیر بلدیات نے کہا کہ ’51 عمارتیں خستہ ہیں ان کو گرانے کی ذمہ داری کمشنر کراچی کو دی گئی ہے۔‘

کراچی کے علاقے لیاری میں واقع بغدادی محلے میں جمعے کی صبح پانچ منزلہ رہائشی عمارت گر گئی تھی جس میں ریسکیو حکام کے مطابق 27 افراد کی اموات ہوئیں۔

یہ عمارت لیاری کے آٹھ چوک پر واقع تھی اور جمعے کی صبح تقریباً ساڑھے 10 بجے زمین بوس ہو گئی۔

ایدھی کنٹرول روم کے رضاکار معین الدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ عمارت کی ہر منزل پر تین فلیٹس تھے۔ ’عمارت گرنے سے قبل کچھ رہائشی افراد یہاں سے اس لیے چلے گئے تھے کیونکہ کچھ حصوں کا پلاسٹر گرنے لگا تھا اور جھٹکے محسوس ہو رہے تھے۔‘

حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ایک رہائشی نے شکایت کی کہ ریسکیو کی گاڑیاں وقت پر نہیں پہنچیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اسلام آباد: مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں ہرن کے شکار پر مقدمہ درج

بدھ جولائی 9 , 2025
Share اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ نے مارگلہ ہلز پر ایک ہرن کو گولی سے شکار کر کے ذبح کیے جانے کی فوٹیج سامنے آنے پر نوٹس لے کر ہفتے کو واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں تیندوے سمیت جنگلی […]

You May Like