پسنی میں ایرانی ایکسپائر اشیاء کا راج چار مہینے سے زہریلی خوراک عوام کے نصیب میں
پسنی (نمائندہ ایگل) پسنی شہر میں ایرانی ایکسپائر اشیاء خورد و نوش کی کھلے عام فروخت جاری ہے، اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن اشیاء کی مدتِ استعمال ایک ماہ سے زیادہ نہیں ہوتی، وہ یہاں چار چار مہینے سے اسٹالز پر دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہیں۔
شہر کے مختلف دکانوں پر ایرانی چپس، بسکٹ، جوس، مشروبات اور دیگر اشیاء ایسی حالت میں فروخت ہو رہی ہیں، جیسے "تاریخِ استعمال” صرف ایک تجویز ہو، کوئی قانون نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات پر واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ انہیں ایک مہینے میں استعمال کر لیا جائے، لیکن یہاں تو وہی اشیاء کئی ماہ سے دھوپ، گرد و غبار اور دکان دار کی "محبت” میں پڑی رہتی ہیں۔
ایک مقامی شہری نے طنزیہ انداز میں کہا:
"ہمیں لگتا ہے پسنی کے دکانداروں نے اشیاء کی ایکسپائری کا حساب قمری کیلنڈر سے شروع کر دیا ہے، اسی لیے چار مہینے بعد بھی اطمینان سے بیچ رہے ہیں!”
انتظامیہ کی خاموشی اس قدر معنی خیز ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوام کی صحت سے نہیں، بلکہ کاروباری حضرات کے منافع سے ہمدردی ہو۔ اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے تاحال کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی، جس پر شہریوں میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ماہرین صحت خبردار کر چکے ہیں کہ ایسی اشیاء کے استعمال سے گردے، جگر اور معدے کے سنگین امراض جنم لیتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں کینسر جیسے موذی مرض کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ کا یہی رویہ رہا تو پسنی کو "ایکسپائری زون” قرار دینا پڑے گا، جہاں صحت ثانوی اور منافع اولین ترجیح ہے۔
آخر میں عوام نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایرانی ایکسپائر اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے ذخیروں کو ضبط کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، ورنہ یہ زہر بازار سے سیدھا اسپتالوں تک عوام کو لے جائے گا۔

