پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے سرحد کھول دی

Share

پاکستان اور افغانستان کے حکام نے منگل کو تصدیق کی کہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے طورخم سرحد کو کھول دیا گیا ہے۔

صوبہ ننگرہار کی وزارت اطلاعات کے مطابق سرحد کھلنے پر ننگرہار کے عمری کیمپ میں پناہ گزینوں کی رہائش اور سہولیات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو خدمات کی فراہمی کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

پاکستان کے ضلع خیبر کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آج دوپہر 12 بجے سے سرحد کو افغان پناہ گزینوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا۔

سرحد کی طویل بندش کے باعث وہ سینکڑوں افغان پناہ گزین، جنہیں پاکستانی حکومت نے انخلا کا حکم دیا تھا، کئی ہفتوں سے علاقے میں پھنسے ہوئے تھے اور سڑکوں پر دن رات گزارنے پر مجبور تھے۔

اس سے قبل پاکستانی حکام نے بتایا تھا غیر قانونی اور غیر دستاویزی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل آج (منگل) سے باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی جانب سے فائرنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

حکام کے مطابق سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ اداروں کو پناہ گزینوں کی واپسی پر 31 مارچ سے دوبارہ عمل درآمد کی ہدایت کی گئی تھی اور یہ صرف یک طرفہ نقل و حرکت یعنی پاکستان سے افغانستان ہو گی۔

27 مارچ کو پاکستان نے عارضی جنگ بندی کے بعد عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر افغان شہریوں کی واپسی کا عمل بحال کیا تھا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد افغان جانب سے فائرنگ کے باعث یہ عمل دوبارہ معطل کر دیا گیا۔

اس سے قبل سوموار کو طورخم زیرو لائن پر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی حکام کے درمیان ایک اہم فلیگ میٹنگ منعقد ہوئی، جس کا مقصد طورخم بارڈر کو IFR (واپسی/ریپٹری ایشن) آمدورفت کے لیے کھولنے کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔:

اجلاس میں پاکستانی حکام نے افغان فریق پر زور دیا کہ شنکنڈو سے داؤد پوسٹ تک پورے علاقے کی مکمل ذمہ داری سنبھالی جائے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان حالات مکمل طور پر معمول پر آنے تک کسی بھی قسم کی تعمیرات نہ کرنے پر زور دیا گیا۔

پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ جنگ بندی (سیز فائر) کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں طورخم بارڈر بند کیا جا سکتا ہے۔

مزید یہ کہ زیرو لائن کے قریب دونوں اطراف اسلحہ کی نمائش یا لے جانے پر مکمل پابندی ہوگی۔

ٹرکوں کی سو فیصد چیکنگ دونوں اطراف ہوگی اور وہی ڈرائیور واپس جائے گا، جبکہ خالی گاڑیوں میں کسی فرد کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آپریشن غضب للحق: مارچ میں عسکریت پسندی سے اموات میں 35 فیصد کمی، رپورٹ

بدھ اپریل 1 , 2026
Share اسلام آباد میں قائم تیھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن غضب للحق کی وجہ سے مارچ کے دوران پاکستان میں عسکریت پسندی سے متعلق اموات میں 35 فیصد کی نمایاں کمی واقع […]

You May Like