اربعین کے سفر پر براستہ سڑک پابندی، متبادل راستے زیر غور نہیں: وزارت مذہبی امور

Share

پاکستان کے وزیر مملکت برائے مذہبی امور نے کہا ہے کہ سڑک کے ذریعے سفر کر کے چہلم امام حسین کے لیے ایران اور عراق جانے والوں پر پابندی میں ’کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی‘ اور سمندر یا دیگر متبادل راستوں پر تاحال غور نہیں کیا جا رہا۔

تین روز قبل حکومت پاکستان کی جانب سے رواں برس زائرین کو اربعین کے لیے سڑک کے راستے ایران اور عراق جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’وزارت خارجہ، بلوچستان حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ زائرین کو اس سال اربعین کے لیے سڑک کے ذریعے عراق اور ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ مشکل فیصلہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے مفاد میں کیا گیا۔ لیکن چہلم کے لیے زائرین ہوائی جہاز سے سفر کر سکیں گے۔

بدھ کو وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس سال زائرین کے زمینی راستے سے ایران اور عراق جانے کی اجازت نہ دیے جانے کی ’پالیسی میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔‘

انہوں نے بتایا وزیر داخلہ حکومت بلوچستان، ایران کی حکومت اور مختلف سکیورٹی اداروں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں جہاں وزیراعظم کو سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ یہی وجوہات تھیں جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ لیا گیا۔

وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے بتایا کہ زائرین کے لیے قومی ایئرلائن کے ذریعے خصوصی پروازوں کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ وہ ہوائی سفر کے ذریعے اربعین میں شرکت کر سکیں۔

’تاہم ابھی تک سمندری یا دیگر متبادل راستے زیر غور نہیں ہیں۔‘

ہوائی سفر کے اخراجات زیادہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے جواب دیا ’زندگی سے زیادہ تو کچھ اہم نہیں ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل چیئرمین سینیٹر عطا الرحمٰن کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں اربعین کے لیے ایران اور عراق جانے والے زائرین سے متعلق معاملہ زیر غور آیا تھا۔

کمیٹی رکن علامہ راجہ ناصر عباس نے اجلاس کے آغاز میں ہی سوال اٹھایا تھا کہ ’کیا پاکستان میں رہنے والوں کے مذہبی حقوق کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ عبادات کے مسائل کو وزارت مذہبی امور زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔‘

انہوں نے کہا عبادات کے معاملے میں داخلہ کمیٹی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

راجہ ناصر عباس نے کہا اس سے عوام کو کم از کم 50 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

’ہم توقع کرتے ہیں وزارت مذہبی امور زائرین کی مدد کرے گی، پاکستان سے کشتیاں یا متبادل راستے کھولے جا سکتے ہیں۔‘

ایران، عراق اور پاکستان کا زائرین کے لیے نئے روٹس پر اتفاق

چہلم امام حسین کے لیے زائرین کی ایران عراق براستہ سڑک پابندی سے متعلق معاملہ پر سیکریٹری وزارت مذہبی امور نے کمیٹی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا اب سمندر کے راستے سے ان ممالک جانے پر مشاورت ہوئی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ’ایران، عراق اور پاکستان کے وزرائے داخلہ نے نئے روٹس پر اتفاق کیا ہے۔ افغانستان کے راستے زائرین کے جانے پر سکیورٹی مسائل ہیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نام نہاد آپریشن سندور پر انڈین پارلیمان میں دعوے جھوٹے، اشتعال انگیز: پاکستان

بدھ جولائی 30 , 2025
Share پاکستان کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز انڈین وزیر داخلہ کا ’نام نہاد آپریشن سندور‘ سے متعلق پارلیمان میں بیان ’جھوٹ سے بھرپور‘ ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بدھ کو انڈین پارلیمان میں ’نام نہاد آپریشن سندور‘ سے متعلق بحث پر پاکستانی ذرائع ابلاغ کے سوالات کے جواب کے طور پر […]

You May Like