سیلاب: صوابی میں 20 اموات، بونیر اور دیگر علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش جاری

Share

خیبر پختونخوا میں حکام نے منگل کو بتایا ہے کہ ضلع صوابی میں ایک روز قبل بادل پھٹنے کے بعد آنے والے سیلاب سے اموات کی اب 20 ہو گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر صوابی نصر اللہ خان کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گدون کے پہاڑی علاقے میں واقع 40 سے 50 مکانات پر مشتمل چھوٹا سا گاؤں ہے جو متاثر ہوا ہے۔ 

صوابی میں ڈپٹی کمشنر کے مطابق 18 اگست کی صبح آٹھ بجے سے شدید بارش ہوئی تھی جس سے سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی۔

آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے ’پی ڈی ایم اے‘ نے منگل کو تصدیق کی کہ ’صوابی اموات کی تعداد 20 تک جا پہنچی ہے جبکہ صوبے میں بارشوں اور سیلاب سے کے سبب ہونے والی اموات تعداد 358 ہو گئی۔‘

صوابی اور بونیر سمیت صوبہ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بارشوں اور سیلاب کے بعد لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ نے ممکنہ موسمی صورتحال اور سڑکوں کی بندش کے حوالے سے منگل کو سفری سرگرمیوں کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

این ڈی ایم اے نے ایک بیان میں کہا کہ شمالی علاقہ جات بالخصوص گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال کے باعث متعدد سڑکوں کو نقصان پہنچا۔

’شمالی علاقہ جات میں متاثرہ سڑکوں پر سفر سے گریز کریں اور متبادل، غیر محفوظ راستوں پر سفر سے باز رہیں۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت یقینی بنائیں۔‘

ریسکیو1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تقریباً آٹھ ملانات منہدم ہوگئے ہیں جہاں سے نو افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد کے مطابق ملبے تلے اب بھی 15 کے قریب افراد دبے ہیں اور اس کو نکالنے کے لیے اپریشن جاری ہے۔

بلال فیضی نے بتایا، ‘ریسکیو آپریشن کے لیے مردان، نوشہرہ، اور ہری پور کے ٹیموں کو طلب کیا گیا ہے تاکہ ملبے کو ہٹایا جا سکے۔’

واقعہ کہاں پیش آیا؟

سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ یہی دالوڑی کا علاقہ ہے جو صوابی کے علاقے گدون کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔

مقامی صحافی محمد زوار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس جگہ تک گذشتہ روز سیلاب کی وجہ سے رسائی بھے مشکل ہوگئی تھی لیکن بعد میں سڑکیں صاف کر کے امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع ہو گئیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعدادوشماد کے مطابق خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے اموات کی تعداد 358 ہو گئی ہیں۔ سب سے زیادہ اموات بونیر میں ہوئی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر شانگلہ میں 36 اموات ہوئی ہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

’کوئی بھی گھر واپس نہیں جانا چاہتا‘: بونیر کے رہائشی مزید بارشوں سے خوف زدہ

منگل اگست 19 , 2025
Share خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے 200 سے زیادہ افراد کی جانیں جا چکی ہیں جہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ڈوبے ہوئے گھروں میں واپس جانے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ علاقے میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 24 […]

You May Like