اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے، نتن یاہو کا اعتراف

Share

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے پیر کو اعتراف کیا کہ اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے اور اسے آنے والے سالوں میں مزید خود انحصار بننا پڑے گا۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا کہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزارت خزانہ کے اکاؤنٹنٹ جنرل کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو نے تسلیم کیا کہ ’اسرائیل ایک طرح سے تنہائی کا شکار ہے۔

سات ستمبر 2023 سے غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران اسرائیل فلسطینی علاقے کے کئی حصوں پر فضائی اور زمینی حملے کر چکا ہے، جن میں 64 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے محاصرے کی وجہ سے وہاں جلد ہی قحط جیسی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے بعض یورپی ممالک نے نہ صرف تل ابیب کے حملوں کی مذمت کی ہے بلکہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ پر حملوں کے بعد سے اسرائیل کو دو نئے خطرات کا سامنا ہے، جن میں مسلم اکثریتی ممالک سے ہجرت کے نتیجے میں یورپ میں آبادیاتی تبدیلیاں اور نئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اسرائیل کے مخالفین کا اثر و رسوخ میں اضافہ شامل ہیں۔

ان کے خیال میں یہ چیلنجز طویل عرصے سے کار فرما تھے، لیکن سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملوں سے شروع ہونے والی جاری جنگ کے دوران سامنے آئے۔

نتن یاہو نے یورپ میں آبادیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ’لامحدود ہجرت‘ کے نتیجے میں مسلمان ایک ’اہم اقلیت – پر اثر آواز رکھنے والے، بہت زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے والے‘ بن گئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان ممالک کے مسلمان شہری یورپی حکومتوں پر اسرائیل مخالف پالیسیاں اپنانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’ان (مسلمانوں) کا مرکز غزہ نہیں، بلکہ یہ عام طور پر صہیونیت کی مخالفت کر رہے ہیں اور بعض اوقات ایک اسلام پسند ایجنڈا ہے جو ان ریاستوں کو چیلنج کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اسرائیل پر پابندیاں اور ہر طرح کی پابندیاں پیدا کر رہا ہے – یہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو گذشتہ 30 سالوں سے کام کر رہا ہے اور خاص طور پر پچھلی دہائی میں اور اس سے اسرائیل کی بین الاقوامی صورتحال بدل رہی ہے۔‘

نتن یاہو نے متنبہ کیا کہ صورت حال ہتھیاروں پر پابندیوں کا باعث بن سکتی ہے اور، حالانکہ یہ ابھی کے لیے صرف خدشات ہیں، معاشی پابندیوں کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔

نتن یاہو کے مطابق دوسرا چیلنج اسرائیل کے ’حریفوں، جن میں این جی اوز اور قطر اور چین جیسی ریاستوں کی سرمایہ کاری ہے- 

انہوں نے کہا کہ ’بوٹس، مصنوعی ذہانت اور اشتہارات کا استعمال کرتے ہوئے مغربی میڈیا کو اسرائیل مخالف ایجنڈے سے متاثر کیا جا رہا ہے۔‘ اس سلسلے میں انہوں نے ٹک ٹاک کی مثال دی۔  


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بلوچستان: کیچ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی دھماکے کا نشانہ، پانچ اہلکار جان سے گئے

منگل ستمبر 16 , 2025
Share بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے شیر بندی میں پیر کو دیسی ساختہ بم سے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب اہلکار علاقے میں کلیئرنس آپریشن کے لیے جا رہے تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں پاکستان فوج کے پانچ […]

You May Like