پاکستان میں نفرت و انتشار کی کوئی گنجائش نہیں: وزیراعظم شہباز شریف

Share

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں نفرت و انتشار کی کوئی گنجائش نہیں اور یہاں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے یہ بات پیر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں دیوالی کی ایک تقریب سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان میں اقلیتوں کے قابل فخر کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان امن ، ہم آہنگی اور برداشت کی سرزمین ہے، یہاں نفرت ، فتنہ فساد ،انتشار اور دہشت گردی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔‘

پاکستان کو عسکریت پسند کا سامنا ہے اور جنگجو نہ صرف ملک کی سکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں بشمول ملک میں آباد اقلیتوں کو بھی نشانہ بناتے آئے ہیں۔ دیوالی کے موقع پر وزیراعظم نے جہاں ہندو برادری کے ساتھ خوشی منائی وہیں انہیں یہ یقین بھی دلایا کہ ملک میں ’فتنہ فساد‘ کی کوئی گنجائش نہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ’آج یہاں اقلیتوں اور اکثریت کے مذہبی ، سیاسی نمائندوں کی موجودگی تصور پاکستان کی عملی تصویر ہے، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست کی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ تمام مذاہب کے ماننے والے پاکستان میں اپنی عبادت گاہوں میں کسی خوف اور ڈر کے بغیر اپنی عبادت اور رسومات ادا کرسکتے ہیں ، انہیں مذہبی آزادی حاصل ہے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ  مسلم اور غیر مسلم پاکستانی مل کر وطن عزیز کے خلاف ہونے والی کسی بھی شر انگیزی اور حملے کا مقابلہ کرتے ہیں اور ’اقلیتوں کیساتھ کسی بھی نا انصافی کے قابل افسوس اور قابل مذمت واقعات کو پاکستان کی اکثریت نے کبھی بھی پسند نہیں کیا اور ہمیشہ اس کی مذمت کی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم ’دہشت گردی‘ کے اندھیروں اور نفرت کی تاریکی کو مٹانے کی جدوجہد میں اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ 

ملک میں امن و امان ہی کی صورت حال پر پیر کی شام وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات میں ’سیاسی امور اور ملکی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور قیام امن کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے  آگاہ کیا۔‘ 

وزارت داخلہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور اتفاق سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ’پاکستان  کے داخلی استحکام کے سب کو مل کر  کام  کرنا ہوگا۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پاکستانی سیاست میں ’واٹ اباؤٹ ازم‘

منگل اکتوبر 21 , 2025
Share پاکستانی سیاست میں فکری اور اخلاقی بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں اصول، تدبر اور احتساب کی جگہ اب ایک ایسے رویے نے لے لی ہے جو ہر غلط کام کے جواز میں دلیل دیتا ہے کہ ’دوسروں نے بھی تو یہی کیا تھا‘۔  یہ رویہ جدید […]

You May Like