’آبنائے ہرمز کی بندش سے گیس سپلائی معطل‘، وزیر توانائی کی لوڈ شیڈنگ پر معذرت

Share

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے پیک آورز میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر جمعرات کو عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے گیس کی سپلائی بند ہے، جس کے باعث لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

ملک بھر سے صارفین روزانہ 10، 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی شکایت کر رہے ہیں۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے، جس کے باعث حکام کو کئی علاقوں میں شام کے مصروف اوقات کے دوران لوڈ مینیجمنٹ کا دورانیہ بڑھا کر پانچ گھنٹے تک کرنا پڑ رہا ہے۔

اسی صورت حال پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اس وقت تقریباً 4 ہزار میگا واٹ سے زائد شارٹ فال کا سامنا ہے اور شہری اور دیہی علاقوں میں برابر کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جو کہ ایک ’عارضی‘ اقدام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چند دن قبل قیمتوں میں اضافے کے باعث ڈھائی گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر توانائی کے مطابق دن کے اوقات میں لوڈ مینیجمنٹ نہیں ہوتی کیونکہ ’دن کے اوقات میں ہمارے پاس ڈیمانڈ کم اور پیداوار وافر ہوتی ہے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران وزیر توانائی نے کہا کہ ’خلیج کی صورت حال کی وجہ سے ہمارے تقریباً سارے ایل این جی پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہے۔ ان تمام ایل این جی پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 6000 میگا واٹ ہے، جس میں سے صرف 500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور وہ بھی کول گیس سے جبکہ پن بجلی سے اس سال اپریل میں 1600 میگاواٹ بجلی بن رہی ہے۔

’اگر ہمیں ایل این جی دستیاب ہوتی اور پن بجلی بھی بن رہی ہوتی تو ہم اس قابل ضرور ہیں کہ ہم اس کمی کو پورا کر پاتے۔ اس وقت ایل این جی اور پن بجلی کی کمی سے جتنا فرق پڑ رہا ہے اس کو کم کرنے کے لیے ہم فرنس آئل کے پلانٹس چلا رہے ہیں تاہم اب بھی ہمیں تقریباً 3400 میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔‘

وفاقی وزیر نے بتایا کہ 500 میگاواٹ کی قلت سے ایک گھنٹہ لوڈ شیڈنگ بڑھتی ہے اور جب طلب 16 ہزار میگا واٹ سے بڑھ جاتی ہے تو تب ہی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔

’اگر بجلی کی پیداوار پن بجلی سے بڑھ جائے تو لوڈ شیڈنگ میں دو گھنٹے کی کمی ہو جائے گی۔‘

انہوں نے صارفین سے درخواست کی کہ بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول اویس لغاری: ’اس وقت ہم ایک بین الاقوامی صورت حال کی وجہ سے ایمرجنسی کی حالت میں ہیں۔ ہمیں بجلی کے استعمال میں احتیاط برتنی ہوگی تاکہ رات کے اوقات میں بجلی کو کم سے کم بند کیا جائے۔‘

بدھ کو طلب اور رسد کے درمیان فرق اس وقت مزید بڑھ گیا جب بجلی کی طلب تقریباً 18000 میگاواٹ تک جا پہنچی۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ راتوں رات پن بجلی کی پیداوار میں لگ بھگ 1991 میگاواٹ کی کمی واقع ہوئی، جس سے نظام پر شدید دباؤ پڑا اور مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کو علاقائی طلب کے مطابق لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ کرنا پڑا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ بڑے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں کمی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) اس وقت صوبوں کی ضروریات کے مطابق پانی چھوڑ رہی ہے، جو حالیہ بارشوں اور جاری فصل کٹائی کے سیزن کے باعث معمول سے کم ہے۔

اس کے نتیجے میں ڈیموں سے پانی کا اخراج کم ہوا ہے، جس نے براہ راست بجلی کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔

تاہم کئی صارفین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے رقم وصول کرنے والے گیس اور تیل کے پلانٹس کیوں کمی پوری نہیں کر رہے ہیں؟ آغاز میں حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مشرق وسطی میں بحران کی وجہ سے ایندھن کی ترسیل میں کمی بجلی بحران کی وجہ ہے۔

اس صورت حال کے باعث تقسیم کار کمپنیوں کو رات کے اوقات میں طے شدہ منصوبے سے زیادہ لوڈ مینیجمنٹ کرنی پڑ رہی ہے۔ تاہم پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ دن کے وقت بجلی کی فراہمی مستحکم ہے اور مصروف اوقات کے علاوہ کسی بڑی کمی کی اطلاع نہیں ہے۔

وزیراعظم آفس نے بھی اس معاملے کا نوٹس لے کر پاور ڈویژن سے طلب و رسد کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے تاکہ صورت حال کا جائزہ لے کر فوری اقدامات کیے جا سکیں، جن میں مقامی گیس کی فراہمی بڑھا کر کمی کو پورا کرنا بھی شامل ہے۔

حکام امید ظاہر کر رہے ہیں کہ موجودہ دباؤ کے باوجود یہ صورت حال عارضی ہے۔ آنے والے دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں متوقع اضافہ پن بجلی کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا، جب کہ ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی بہتر دستیابی تھرمل بجلی کی پیداوار کو سہارا دے گی۔

ایک متعلقہ پیش رفت میں پاور ڈویژن نے پہلے واضح کیا تھا کہ حکومت نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور کے الیکٹرک میں ڈھائی گھنٹے کی لوڈ مینیجمنٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم حالیہ کمی میں اضافے کے بعد یہ واضح نہیں کہ یہ رعایت برقرار رہے گی یا نہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You May Like