پولیس کے مطابق پشاور میں واقع فیڈرل کانسٹیبلری (سابقہ فرنٹیئر کانسٹبلری) کی عمارت کے مرکزی گیٹ پر پیر کو خودکش دھماکے کے نتیجے میں تین اہلکار جان سے چلے گئے جبکہ دو حملہ آوروں کو بھی مار دیا گیا۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق: ’پہلے بمبار نے ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر دھماکہ کیا جبکہ دوسرے بمبار کو پارکنگ ایریا کے قریب اہلکاروں نے فائرنگ کرکے مار دیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس اور ایف سی کے کمانڈوز نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ اور بروقت ردعمل دیا، جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان نہیں ہوا اور صورت حال جلد کنٹرول میں آ گئی۔
ایک مقامی رہائشی صفدر خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’جائے وقوع کے قریب سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور فوج، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اب تک کسی بھی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم پاکستان میں ماضی میں ہونے والے ایسے حملوں کے پیچھے عام طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
صدر بازار کے قریب واقع ایف سی ہیڈکوارٹر ایک تاریخی عمارت ہے، جہاں فیڈرل کانسٹیبلری کے دفاتر موجود ہے۔
یہ عمارت ایک مصروف شاہراہ پر واقع ہے، جہاں دونوں اطراف میں مختلف دکانیں، گاڑیوں کی ورک شاپس اور عمارت کے بالکل سامنے صدر بازار کا مشہور ڈینز ٹریڈ سنٹر واقع ہے۔
پشاور بی آر ٹی کی ترجمان صدف کامل کے مطابق سکیورٹی خدشات اور مسافروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی راہداری پر بس سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے، تاہم فیڈر روٹس پر بس سروس معمول کے مطابق جاری ہے۔
یہ واقعہ ایک روز قبل خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سپیشل برانچ کو ایک علیحدہ اور خصوصی پولیس یونٹ میں تبدیل کرنے کی منظوری کے بعد سامنے آیا۔ یہ فیصلہ صوبے میں عسکریت پسندانہ حملوں کی نئی لہر کے تناظر میں کیا گیا۔
حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا میں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں، جن میں کئی سکیورٹی اہلکاروں کی اموات ہوئی ہیں۔

