پی آئی اے کو آئندہ اپریل سے نئے مالکان چلائیں گے: مشیر نجکاری

Share

پاکستان میں نجکاری کمیشن کے سربراہ محمد علی نے بدھ کو بتایا کہ قومی ایئر لائن پی آئی اے کو آئندہ سال اپریل سے نئے مالکان چلائیں گے اور فلیگ کیریئر کی نجکاری کے معاہدے کے تحت مزید سرمایہ کا حصول بھی متوقع ہے۔

عارف حبیب کنسورشیم منگل کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں خریدے تھے۔

گذشتہ سال نومبر میں بھی حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی تھی لیکن خریدار کی جانب سے محض 10 ارب روپے کی بولی لگائی گئی تھی جس کے بعد یہ عمل موخر کر دیا گیا۔

نجکاری کے محکمے کے لیے وزیراعظم کے مشیر محمد علی نے بدھ کو روئٹرز کو ایک آن لائن انٹرویو میں بتایا کہ ریاست کو توقع ہے کہ اپریل تک نئے مالک ایئر لائن چلانا شروع کر دیں گے،  تاہم انہوں نے کہا کہ ’یہ کچھ منظوریوں سے مشروط ہے۔‘

پی آئی اے کی نجکاری پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ اس اقدام سے قومی وقار مجروح نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد قومی ایئرلائن کی کھوئی ہوئی طاقت اور کارکردگی بحال کرنا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ بدھ کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے یہ دعوے کہ ایئر لائن کو اس کے طیاروں کی مالیت سے کم قیمت پر فروخت کیا گیا، غلط اور گمراہ کن ہیں اور نجکاری کے عمل کے حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے پاس ایک وقت میں تقریباً 50 طیاروں کا بیڑا تھا تاہم اس وقت صرف 17 سے 19 طیارے فعال ہیں جبکہ 12 طیارے لیز پر آپریٹ کر رہے ہیں۔

محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے سالانہ تقریباً 40 لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرتی ہے اور اس کے لینڈنگ اور روٹ حقوق اس کے سب سے قیمتی اثاثے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے ایک زمانے میں مضبوط اور معتبر ایئر لائن تھی اور اب امید ہے کہ نجکاری سے بتدریج اس کی کھوئی ہوئی ساکھ اور آپریشنل قوت بحال ہو سکے گی۔

مشیر نجکاری نے اس دعوے کہ حکومت کو نجکاری سے صرف 10 ارب روپے ملیں گے، کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو 7.5 فیصد رقم نقد اور 25 فیصد ایکویٹی کی مالیت ملے گی، جو بالترتیب 10 ارب اور 45 ارب روپے بنتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ بولی سے حاصل ہونے والی رقم میں سے حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے ملیں گے جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پی آئی اے کی نجکاری کامیابی سے مکمل ہو چکی ہے اور پوری قوم نے اس کا شفاف عمل دیکھا۔‘

ایئر لائن کی مالی گراوٹ پر بات کرتے ہوئے مشیر نجکاری نے کہا کہ 2009 کے بعد پی آئی اے کی کارکردگی میں نمایاں کمی آئی۔ ان کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں قومی ایئر لائن کو 500 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ قومی ائیرلائن پرائیویٹائز میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بہت اہم کردار ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ قومی ائیرلائن کی نجکاری شفاف انداز میں ہوئی اور اس عمل کو براہ راست قومی ٹیلی ویژن پر دکھایاگیا۔

یہ عمل اب پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ اور کابینہ کی طرف سے حتمی منظوریوں کی طرف گامزن ہے اور توقع ہے کہ معاہدے پر دستخط دو ہفتوں کے اندر ہو سکتے ہیں۔

 


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پنجاب میں پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس معطل، خامی تھی کہاں؟

بدھ دسمبر 24 , 2025
Share لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں زمین و جائیداد پر قبضہ چھڑوانے کے لیے نافظ قانون پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 پیر کو معطل کر دیا تھا، جس کے بعد اس پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ یہ قانون صوبے میں زمین اور جائیداد سے […]

You May Like