افغان طالبان نے عوام کو ہراساں کرنے کے لیے چند ڈرونز داغے جو مار گرائے: پاکستان فوج

Share

پاکستان فوج نے ہفتے کو کہا ہے کہ 13 مارچ کو افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا گیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغان طالبان نے پاکستان کے بہادر عوام کو ہراساں کرنے کے لیے چند سادہ ڈرون داغے جنہیں مار گرایا گیا جس کے نتیجے میں ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جب کہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔‘

اس سے قبل جمعہ کو پاکستانی حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی تھی کہ شام سات بج کر 15 منٹ کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد میں حمزہ کیمپ کے اوپر دو ڈرون منڈلا رہے تھے جنہیں ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔ 

افغان وزارت دفاع نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں ’فضائی حملے‘ کا دعویٰ کیا ہے اور ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ’جاری جوابی کارروائی ’ریجیکٹ اوپریشن‘ کے تسلسل میں آج شام تقریباً 5 بجے افغان فضائیہ نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں پاکستانی فوج کے سٹریٹجک مرکز ‘حمزہ‘ پر فضائی حملہ کیا۔‘

اس دوران اسلام آباد کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔

پاکستان فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا تھا اور ’یہ ہمیں اس دہشت گردانہ ذہنیت کی یاد دلاتے ہیں جس کے تحت افغان طالبان کام کر رہے ہیں‘۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایک طرف تو افغان طالبان عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتے ہیں جب کہ دوسری جانب وہ اپنے دہشت گرد آلہ کاروں اور ڈرونز کے ذریعے عام شہریوں کو باقاعدہ نشانہ بناتے ہیں۔

’پاکستان کے عوام اور اس کی مسلح افواج افغانستان پر حکمرانی کرنے والی اس کرائے کی دہشت گرد ملیشیا کی اصل حقیقت اور عزائم کے حوالے سے بالکل واضح ہیں۔‘

پاکستان فوج نے واضح کیا کہ ’آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی بنیادی تشویش دور نہیں کر دیتے۔‘ 

آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی اور افغان طالبان کے ڈرون حملوں جیسی اس کی دیگر شکلوں کے خلاف جنگ میں ثابت قدم ہیں۔ ’ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان کے عوام کا دفاع کرتے رہیں گے اور افغان طالبان کی ایسی اشتعال انگیزیوں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

لکی مروت میں بم دھماکہ، ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکار جان سے گئے

ہفتہ مارچ 14 , 2026
Share صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعے کو پولیس وین کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ واقعہ آج صبح تھانہ شادی خیل کی حدود میں رسول خیل چیک پوسٹ کے قریب پیش آیا جہاں […]

You May Like