ایران جنگ: سب سے پہلے کس ملک میں ایندھن ختم ہو گا اور کیوں؟

Share

ماجد علی، جو کام کے لیے روزانہ 22 کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں، انہیں اپنی بائیک کے لیے درکار ایندھن حاصل کرنے کے لیے دو گھنٹے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ وہ بنگلہ دیش کے ان کروڑوں لوگوں میں سے ایک ہیں جو ایران پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ماہ طویل جنگ کے باعث ملک کے کم ہوتے ہوئے ایندھن کے ذخائر پر تشویش کی وجہ سے دن رات پیٹرول پمپوں کے باہر قطاریں لگائے کھڑے رہتے ہیں۔

نجی شعبے کے ساتھ وابستہ 33 سالہ ملازم ماجد علی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’یہ موٹرسائیکل میرے لیے سفر کا واحد آسان ذریعہ ہے، لیکن پیٹرول کے بغیر میں اسے کیسے جاری رکھ پاؤں گا؟‘ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں خوش قسمت تھا کہ مجھے ایندھن مل گیا۔ میرے پیچھے درجنوں گاڑی سوار واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے کیوں کہ سٹیشن پر ایندھن ختم ہو گیا تھا۔‘ 

ان دنوں دارالحکومت ڈھاکہ کی عموماً مصروف رہنے والی سڑکوں پر کم ہی گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔

تیل کی  بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر اس تشویش اضافہ ہوا ہے کہ آیا ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا؟ جو فروری کے آخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر بحری جہازوں کے لیے بند ہے۔ ایشیا کی جانب سے خریدے گئے خام تیل کا تقریباً 90 فیصد اسی آبنائے سے گزرتا ہے جو خلیج فارس کو بحر ہند سے جوڑتی ہے۔

ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی والے اس ملک نے، جو اپنی توانائی کی تقریباً 95 فیصد ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، گاڑیوں کے لیے ایندھن کی راشن بندی کرتے ہوئے ڈیزل کی فروخت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور یونیورسٹیوں کو بند کر دیا ہے، کیوں کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کی تیل کی برآمدات میں شدید رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے۔

موٹرسائیکل سواروں اور نقل و حمل کے مختلف ذرائع کے ڈرائیوروں نے ایندھن کی محدود مقدار حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں اور بعض صورتوں میں پوری پوری رات انتظار کیا۔ روئٹرز کے مطابق کئی پیٹرول پمپوں نے ایندھن ختم ہونے کے بعد بانس کی رکاوٹیں لگا کر اپنے گیٹ بند کر دیے ہیں، جب کہ ایندھن کی مشینوں کو نیلی پلاسٹک میں لپیٹ  دیا گیا ہے جس سے تیل رسد میں رکاوٹ کی شدت کی عکاسی ہوتی ہے۔ 

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت سے باہر کے علاقوں میں یہ قلت زیادہ شدید نظر آتی ہے، جہاں ایندھن پلاسٹک کی بوتلوں میں ایک سے دو لیٹر تک کی تھوڑی مقدار میں زیادہ قیمتوں پر غیر رسمی طور پر فروخت کیا جا رہا ہے۔

طارق رحمٰن کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی نو منتخب حکومت جوابی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے، کیوں کہ بنگلہ دیش توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور توانائی کے بحران کے ماحول میں وہ پہلا ملک بننے کے امکان سے نبرد آزما ہے جہاں تیل کی فراہمی سب سے پہلے بند ہو سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ ماہ کے آخر میں بنگلہ دیش کے پاس اس کی مشرقی ریفائنری میں تقریباً 80 ہزار ٹن خام تیل ذخیرہ تھا، جو ملک کی ضروریات پورا کرنے کے لیے صرف دو ہفتے سے کچھ زائد وقت کے لیے کافی ہے، جب کہ ڈیزل کے ذخائر کی صورت حال بھی اسی طرح کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈھاکہ میں حکام اب سنگاپور، ملائیشیا، نائیجیریا، آذربائیجان، قازقستان، انگولا اور آسٹریلیا سے رابطہ کر کے اپنی ایندھن کی درآمدات میں تنوع لانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش نے چھ لاکھ میٹرک ٹن تک روسی ڈیزل درآمد کرنے کے لیے انڈیا کو دی گئی چھوٹ کی طرح امریکہ سے عارضی طور پر پابندیوں میں استثنیٰ مانگا ہے۔

 رحمٰن حکومت کے ایک عہدےدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ سپاٹ مارکیٹ سے خریداری ہمارے خزانے کو خالی کر رہی ہے، لیکن حکومت اس میں کچھ نہیں کر سکتی۔ ہمارے پاس 10 دن سے بھی کم کے ذخائر موجود ہیں۔‘

بنگلہ دیش نے اپنے لوگوں کے لیے گیس کی مقامی سپلائی کو مناسب سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش میں مہنگی سپاٹ مارکیٹ سے بھاری قیمتوں پر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے حصول کی طرف رجوع کیا ہے۔ دو دن کی بھرپور تگ و دو کے بعد، سرکاری توانائی کمپنی پیٹرو بنگلہ نے بدھ کو ایل این جی کے دو کارگو ان قیمتوں پر حاصل کیے جو یکم مارچ کو ادا کی گئی قیمتوں سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ تھیں۔

سرکاری بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن (بی پی سی) تین تاجروں سے تقریباً 60 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل حاصل کر رہی ہے، جب کہ مزید 90 ہزار میٹرک ٹن اس ماہ کے آخر میں پہنچنا طے ہے، یہ بات توانائی کے دو عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتائی کیوں کہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

 عالمی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالیسس کے سربراہ اور توانائی تجزیہ کار شفیق العالم کا کہنا ہے کہ ’درآمدی روائتی ایندھن پر زیادہ انحصار کی وجہ سے بنگلہ دیش ایشیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہو سکتا ہے۔‘

برطانوی اخبار دا ٹیلی گراف نے ایک بنگلہ دیشی عہدےدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو ’بنگلہ دیش چند ہفتے کے اندر عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ سکتا ہے۔‘

تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باوجود ’بنگلہ دیش میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں‘ ہے۔

ملک کے وزیر توانائی اقبال حسن محمود ٹوکو نے کہا، ’میں واضح طور پر بتا دوں کہ اس وقت بنگلہ دیش میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے۔ درحقیقت ہم نے گذشتہ سال کے مقابلے میں رسد میں اضافہ کیا ہے۔‘

ماہرین اس بحران کے بگڑنے کا ذمہ دار ان غیر رسمی سنڈیکیٹس کو بھی ٹھہراتے ہیں جو رسد کا رخ موڑ رہی ہیں اور مارکیٹ سے ایندھن روک رہی ہیں۔

2022 میں یوکرین میں روس کی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی رکاوٹ دوبارہ پیدا ہونے کے خوف نے افراتفری میں خریداری اور ایندھن کی ذخیرہ اندوزی کو ہوا دی ہے، جس نے محدود رسد سے نمٹنے کی کوشش کرنے والے پیٹرول پمپوں پر قلت کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

بنگلہ دیش پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے جوائنٹ کنوینر میزان الرحمٰن رتن کہتے ہیں کہ ’ہمیں محدود رسد مل رہی ہے اور پیٹرول پمپوں پر اضافی دباؤ ہے۔‘

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’پمپوں پر اتنی زیادہ بدنظمی ہے کہ ہمارے کارکنوں کو ان غصے میں بھرے گاہکوں کے تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اوکٹین یا پیٹرول کے بغیر واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کو ایندھن کی ذخیرہ اندوزی بند کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’چوں کہ ہر گاڑی سوار کے لیے صرف ایک محدود مقدار مختص کی جا رہی ہے، اس لیے وہ اپنی موٹرسائیکل کے ٹینک خالی کر کے مزید خریداری کے لیے قطار میں شامل ہو رہے ہیں۔ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمارے پمپوں اور کارکنوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔‘

حکومت ایندھن کی راشن بندی کر رہی ہے۔ اگرچہ عید الفطر کے تہوار کے لیے پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ ڈھاکہ نے اپنے سرکاری ملازموں کو بجلی بچانے کے لیے روشنیاں بند کرنے اور ایئر کنڈیشننگ کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دا بزنس سٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق چار مارچ کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ڈیزل کا ذخیرہ کم ہو کر 115473 ٹن رہ گیا ہے، جو تقریباً نو دنوں کی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ اوکٹین کا ذخیرہ کم ہو کر 28152 ٹن ہو گیا ہے، جو تقریباً دو ہفتے کی کھپت کے لیے کافی ہے۔

بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن اپریل میں انڈیا کی نومالی گڑھ ریفائنری لمیٹڈ سے 40000 میٹرک ٹن ڈیزل درآمد کرنے والی ہے، جو مارچ میں حاصل کی گئی مقدار سے تقریباً دوگنا ہے۔ ملک ایندھن اور ایل این جی کی درآمدات کے لیے ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی مالی امداد بھی تلاش کر رہا ہے۔

 شفیق العالم  کہتے ہیں، ’حکومت بہت زیادہ قیمت پر تیل اور توانائی درآمد کر رہی ہے۔ اس سے سبسڈی کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بنگلہ دیش اپنی بنیادی توانائی کی 62 فیصد سے زائد ضرورت کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے جب بھی کوئی رکاوٹ پڑتی ہے، تو وہ آخر کار سسٹم پر اثر انداز ہوتی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے بنگلہ دیش نے اپنی ایل این جی کی درآمدات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بجلی کے شعبے کو بہت زیادہ سبسڈی دی جاتی ہے، اور اس کے اوپر اب یہ مہنگا ایندھن، جس کا مالیاتی گنجائش پر شدید اثر پڑے گا۔‘

 شفیق العالم  نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ کا بحران برقرار رہا ہے تو ’کمپنیاں یا تو زیادہ قیمتوں پر ایندھن خریدیں گی یا گیس اور ایندھن کی سپلائی کی راشن بندی کریں گی، جس سے صنعتی قلت اور لوڈ شیڈنگ شروع ہو جائے گی۔

’حکومت کو (توانائی) بچانے کے مناسب پیغامات کے ساتھ ان اقدامات پر غور کرنا چاہیے جو کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران آزمائے گئے تھے، مثلاً ایسے اداروں کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے جنہیں روزانہ بہت فوری یا ہنگامی طور پر معاملات نمٹانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

وزیراعظم کے دفتر کے اہلکاروں نے دا ڈیلی اسٹار کو بتایا کہ تمام اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ توانائی بچانے کے لیے تجاویز تیار کریں۔ ان میں تین ماہ کا ایک قلیل مدتی منصوبہ بھی شامل ہو، جب کہ درمیانی اور طویل مدت کی حکمت عملیاں بھی دی جائیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایشیا کے بہت سے ممالک، جو اس بحران کی پہلی صف میں رہے ہیں، قومی تعطیلات کا اعلان کر چکے ہیں، گھر سے کام کرنے کے اقدامات نافذ کر چکے ہیں، کام کے دن کم کر چکے ہیں، اور شہریوں سے اپیل کر چکے ہیں کہ وسائل بچانے کے لیے کم وقت میں نہایا کریں۔

طارق رحمٰن  کی حکومت اس سال اقتدار میں آئی، اور اسے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران کا سامنا تھا۔ چند ہی دنوں میں ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ نے اس بحران کو مزید سنگین کر دیا۔

 شفیق العالم کا کہنا ہے: ’2022 میں روس کی جنگ سے شدید متاثر ہونے کے باوجود بنگلہ دیش کے پاس زیادہ گہرے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں تھا۔‘

2024 میں حکومت مخالف خونی احتجاج کے بعد بنگلہ دیش سماجی، سیاسی اور معاشی بحران میں ڈوب گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو انڈیا فرار ہونا پڑا۔ اس سال فروری تک ملک ایک عبوری انتظامیہ چلا رہی تھی، جس کی قیادت نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس کر رہے تھے۔

 شفیق العالم کا مشورہ ہے کہ رحمٰن حکومت ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس بات پر غور کرے کہ بنگلہ دیش کی صاف توانائی کی طرف منتقلی کو کیسے تیز کیا جا سکتا ہے؟

 وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یوکرین روس بحران کے بعد ایک خلا تھا جسے تیزی سے پُر کرنے کی ضرورت تھی۔ وہ خلا پُر نہیں کیا گیا۔ اب حکومت کو توانائی کی منتقلی تیز کرنی چاہیے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آبنائے ہرمز کو 'آزاد کرانے' کے لیے فوجی آپریشن 'غیر حقیقی' ہے: فرانسیسی صدر

جمعرات اپریل 2 , 2026
Share یران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 32 واں دن ہے۔  امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔ رات 9 بج کر 30 منٹ ایرانی کمیونٹی کے حوالے سے […]

You May Like