آبنائے ہرمز کو ‘آزاد کرانے’ کے لیے فوجی آپریشن ‘غیر حقیقی’ ہے: فرانسیسی صدر

Share

یران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 32 واں دن ہے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔


رات 9 بج کر 30 منٹ

ایرانی کمیونٹی کے حوالے سے میڈیا کی خبریں بے بنیاد ہیں: یو اے ای

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ملک میں مقیم ایرانی کمیونٹی کی رہائشی حیثیت کے حوالے سے میڈیا میں پھیلائی گئی خبریں بے بنیاد اور غلط ہیں۔

اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یو اے ای کا ادارہ جاتی نقطۂ نظر مضبوط طریقہ کار اور فریم ورک کے مطابق ہے جو بغیر کسی تفریق کے معاشرے کے تمام افراد کی سلامتی اور بھلائی کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

بیان کے مطابق ایرانی کمیونٹی ملک کی معاشرتی شمولیت اور تنوع میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک میں مقیم ایرانی کمیونٹی کو احترام اور اہمیت حاصل ہے اور یہ یو اے ای کی سماجی تشکیل کا لازمی حصہ ہے۔

بیان کے مطابق یو اے ای میں 200 سے زائد قومیتوں کے لوگ آباد ہیں، جو بقائے باہمی اور رواداری کے اقدار کے لیے ملک کی مستقل وابستگی اور وہاں مقیم تمام افراد کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یو اے ای قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر ایک محفوظ اور مستحکم ماحول کو فروغ دینے، تمام رہائشیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور رواداری و بقائے باہمی کے دیرپا اقدار کی عکاسی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔


شام چھ بج کر 25 منٹ

علاقائی امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے: ازبک وزیر خارجہ

پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے جمعرات کو ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سیدوف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔  

اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ازبک وزیر خارجہ نے علاقائی امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے فعال کردار کی تعریف کی اور اسلام آباد میں چار وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس کی میزبانی پر پاکستان کی قیادت کو سراہا۔

انہوں نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے پاک چین پانچ نکاتی اقدام کی مکمل حمایت کا بھی اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔


شام پانچ بجے

آبنائے ہرمز کو ‘آزاد کرانے’ کے لیے فوجی آپریشن ‘غیر حقیقی’: فرانسیسی صدر

فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے جمعرات کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ’آزاد‘ کرانے کے لیے فوجی آپریشن غیر حقیقت پسندانہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر میکروں نے ایران جنگ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

فرانسیسی صدر نے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران کہا: ’یہاں ایسے لوگ ہیں جو فوجی آپریشن کے ذریعے طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو آزاد کرانے کی وکالت کرتے ہیں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار اس تنگ آبنائے کو بزور طاقت کھلوانے کی بات کر چکے ہیں جس پر اس کے تمام یورپی اور ایشیائی اتحادیوں نے شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

صدر میکروں نے مزید کہا کہ ’یہ غیر حقیقی ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ وقت لگے گا اور یہ آبنائے عبور کرنے والے کسی بھی شخص کو (ایرانی) پاسداران انقلاب کی طرف سے ساحلی خطرات سے دوچار کرے گا، جن کے پاس اہم وسائل کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل بھی ہیں (اور) یہاں بہت سے دوسرے خطرات بھی ہیں۔‘

میکروں نے اپنے امریکی ہم منصب پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اس جنگ کے دوران خود بھی تضاد کا شکار ہیں۔

ان کے بقول: ’آپ کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ جب آپ سنجیدہ ہونا چاہتے ہیں، تو آپ ہر روز پہلے دن سے مختلف بیان داغ دیتے ہیں اور شاید اس لیے آپ کو ہر روز بات نہیں کرنی چاہئے۔‘ 


دن 12 بج کر 20 منٹ

چین کا ایران جنگ کے تمام فریقیں سے فوجی کارروائیاں روکنے پر زور

چین نے ایران جنگ میں شامل تمام فریقوں سے فوجی کارروائیاں روکنے اور عالمی معیشت و توانائی کی سلامتی پر مزید سنگین اثرات ڈالنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہ بات چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔


صبح 9 بج کر 30 منٹ

ڈیموکریٹس کی ٹرمپ کے خطاب پر تنقید

ڈیموکریٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکی عوام سےڈونلڈ ٹرمپ کے پرائم ٹائم خطاب کو ’غیر مربوط‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں ’بنیادی سوالات‘ کے جواب دینے کی بہت کم کوشش کی گئی۔

سینیٹرمارک وارنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ پر لازم تھا کہ وہ امریکی عوام کو اس تنازع کے بارے میں مزید وضاحت دیتے، جس کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، ’اور اس کے ساتھ ڈیزل، کھاد، ایلومینیم اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جن کے اثرات طویل عرصے تک معیشت پر پڑتے رہیں گے۔‘

سینیٹر کرس مرفی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’تقریر ایک ایسی حقیقت پر مبنی تھی جو صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں موجود ہے۔‘

مرفی نے مزید کہا کہ ’اس تقریر کو سننے کے بعد امریکہ میں کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ ہم کشیدگی بڑھا رہے ہیں یا کم کر رہے ہیں۔‘


صبح 8 بج کر 45 منٹ

ایرانی صدر کا امریکیوں کے نام پیغام

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی بدھ کو ایک بیان کیا جس کا عنوان تھا: ’امریکی عوام کے نام، اور ان تمام لوگوں کے نام جو غلط بیانیوں اور گھڑی ہوئی کہانیوں کے سیلاب کے باوجود سچ کی تلاش میں ہیں اور بہتر زندگی کے خواہاں ہیں‘:

انہوں نے ایکس پر چار صفحات پر مشتمل ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’ایران—اپنے نام، کردار اور شناخت کے اعتبار سے—انسانی تاریخ کی قدیم ترین مسلسل تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ اپنی تاریخ اور جغرافیائی برتری کے باوجود، ایران نے اپنی جدید تاریخ میں کبھی جارحیت، توسیع پسندی، نوآبادیات یا غلبے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔

’حتیٰ کہ قبضے، حملوں اور عالمی طاقتوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود—اور اپنے کئی ہمسایہ ممالک پر فوجی برتری رکھنے کے باوجود—ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ بلکہ اس نے ہمیشہ عزم اور بہادری کے ساتھ حملہ آوروں کا مقابلہ کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایرانی عوام دیگر اقوام، بشمول امریکہ، یورپ اور ہمسایہ ممالک کے عوام کے خلاف کوئی دشمنی نہیں رکھتے۔

’فطری طور پر، کوئی بھی ملک ایسے حالات میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایران نے جو کیا ہے، اور جو کر رہا ہے وہ جائز دفاع پر مبنی ایک متوازن ردِعمل ہے، نہ کہ جنگ یا جارحیت کا آغاز۔‘

مسعود پزشکیان نے سوال کیا کہ ’کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ امریکہ اس جارحیت میں اسرائیل کے لیے ایک پراکسی کے طور پر داخل ہوا ہے، اور اس حکومت کے زیرِ اثر ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ اسرائیل، ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے فلسطینیوں کے خلاف اپنے اقدامات سے عالمی توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ کیا یہ واضح نہیں کہ اسرائیل اب چاہتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ آخری امریکی فوجی اور آخری امریکی ٹیکس دہندہ کے خرچ تک جاری رہے؟


صبح 08 بجے

ایران پر حملوں کے بعد صدر ٹرمپ کا قوم سے پہلا خطاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ’آج رات مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم بنیادی سٹریٹیجک مقاصد مکمل کرنے کے قریب ہیں۔‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ امریکہ، ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد کی’تکمیل کے قریب‘ ہے اور اس تنازعے میں ’زبردست فتوحات‘ حاصل کرنے پر انہوں نے امریکی افواج کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان گذشتہ چار ہفتوں میں ہماری مسلح افواج نے میدان جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور زبردست فتوحات حاصل کی ہیں، ایسی فتوحات جیسی اس سے پہلے کم ہی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے خلیجی عرب اتحادیوں اور اسرائیل کو ’نقصان اٹھانے یا ناکام ہونے‘ نہیں دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے 32 دن بعد، ایران ’واقعی اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہماری پیش رفت کی بدولت، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ہی اپنے تمام فوجی اہداف مکمل کرنے کی راہ پر ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم آنے والے چند ہفتوں میں ان پر شدید حملے کریں گے اور انہیں واپس پتھر کے دور میں لے جائیں گے جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ہمت‘ کریں اور اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ کر لیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ’دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ بس اس پر قبضہ کریں، اس کی حفاظت کریں، اسے اپنے لیے استعمال کریں۔‘

’ہم نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر بری طرح کمزور کر دیا ہے۔ جو ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں، اب انہیں اس گزرگاہ کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔

’ہم مدد کریں گے، لیکن انہیں اس تیل کے تحفظ میں خود قیادت کرنی چاہیے جس پر وہ شدت سے انحصار کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وہ ممالک جو ایندھن حاصل نہیں کر سکتے، جن میں سے بہت سے ایران کے خلاف اس کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کیا ان کے لیے میرے پاس تجویز ہے۔ وہ امریکہ سے تیل خریدیں، کچھ ہمت کریں اور آبنائے ہرمز خود لے لیں۔‘

انہوں نے ’مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین‘ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بہت عظیم رہے ہیں، اور ہم انہیں کسی بھی صورت، شکل یا طریقے سے نقصان اٹھانے یا ناکام نہیں ہونے دیں گے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

آرٹیمس 2: خاتون اور سیاہ فام بردار پہلا چاند مشن

جمعرات اپریل 2 , 2026
Share چار خلاباز بدھ کو خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے بہت بڑے راکٹ پر سوار ہو کر چاند کے گرد طویل عرصے سے متوقع سفر پر روانہ ہو گئے۔ یہ 50 سال سے زائد عرصے میں چاند کے گرد انسانی عملے پر مشتمل پہلی پرواز ہے۔ ایک زوردار […]

You May Like