انڈین پارلیمنٹ میں خواتین کی نشستیں 33 فیصد کرنے کا اعلان

Share

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے ایک اہم بل کو تیزی سے منظور کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ملک کے سیاسی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے جمعرات کو کہا کہ 16 اپریل کو پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس بلایا جائے گا جس میں اس ’اہم بل‘ پر بحث اور اسے منظور کیا جائے گا۔

اس کا مقصد خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کے قانون کو عملی شکل دینا ہے۔

یہ مجوزہ قانون 2023 کے اس قانون پر عمل درآمد کو تیز کرے گا جس کے تحت قومی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کی جائیں گی۔

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس سے خواتین اراکین پارلیمنٹ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور پالیسی سازی پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔

اس وقت لوک سبھا میں خواتین کی نمائندگی صرف 14 فیصد ہے، یعنی 543 میں سے صرف 75 نشستیں خواتین کے پاس ہیں۔

نیا قانون نہ صرف اس شرح کو بڑھائے گا بلکہ ممکنہ طور پر پارلیمنٹ کی مجموعی نشستوں میں بھی اضافہ کرے گا۔

اطلاعات کے مطابق ترمیم کے بعد لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھ کر 816 تک جا سکتی ہیں، جو انڈیا کے جمہوری ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

مودی نے کہا ہے کہ ’معاشرہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب خواتین ترقی کرتی ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 انہوں نے مزید کہا کہ سیاست اور قانون سازی میں خواتین کی کم نمائندگی افسوس ناک ہے کیونکہ ان کی شمولیت حکمرانی کو بہتر بناتی ہے اور فیصلوں کو زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

اس قانون کے نفاذ میں تاخیر اس لیے ہوئی تھی کیونکہ نئی مردم شماری کے اعداد و شمار درکار تھے، جو کووڈ-19 کی وجہ سے 2021 میں مؤخر ہو گئی تھی۔

انڈیا نے حال ہی میں 15 سال بعد نئی مردم شماری شروع کی ہے، جو ایک بہت بڑا انتظامی عمل ہے۔

حکومت اب تجویز دے رہی ہے کہ حلقہ بندی 2011 کی آخری مکمل مردم شماری کی بنیاد پر کی جائے تاکہ اس عمل میں مزید تاخیر نہ ہو۔

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں خواتین کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

امریکی ویزہ کے لیے ’جعلی ڈکیتیاں‘: 10 انڈینز پر فرد جرم عائد

پیر اپریل 13 , 2026
Share امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن کی وفاقی گرینڈ جیوری نے ویزا فراڈ کی سازش میں ملوث 10 انڈین شہریوں پر فردِ جرم عائد کر دی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی مسلح ڈکیتیاں کروا کر خود کو جرائم کا شکار ظاہر کیا تاکہ امیگریشن […]

You May Like