ہیکرز کو جرائم میں اے آئی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا: تحقیق

Share

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سائبر مجرموں کو مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس تحقیق میں زیر زمین اور ڈارک ویب پر موجود سائبر کرائم کمیونٹیز کی تقریباً 10 کروڑ پوسٹس کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے پایا کہ زیادہ تر سائبر مجرموں میں اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنے جرائم میں استعمال کرنے کی مہارت یا وسائل موجود نہیں۔

ایڈنبرا، سٹراتھ کیلائیڈ اور کیمبرج کی یونیورسٹیوں کے محققین کی ٹیم نے کرائم بی بی ڈیٹابیس میں موجود گفتگوؤں کا تجزیہ کیا، جس میں ڈارک ویب اور زیرِ زمین سائبر کرائم فورمز سے جمع کی گئی 10 کروڑ سے زائد پوسٹس شامل ہیں۔

گفتگوؤں کے تجزیے کے لیے مشین لرننگ ٹولز اور مینوئل سیمپلنگ کا استعمال کیا گیا۔

محققین ایسے پیغامات تلاش کر رہے تھے جن میں ذکر ہو کہ سائبر مجرم، جنہیں عام طور پر ہیکرز کہا جاتا ہے، نومبر 2022 کے بعد کس طرح  اے آئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربات کر رہے تھے۔

اسی ماہ میں چیٹ جی پی ٹی بھی پیش کیا گیا تھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ سائبر کرائم کرنے کی مہارت میں اضافہ کرنے کی بجائے اے آئی کوڈنگ اسسٹنٹس زیادہ تر انہی لوگوں کے کام آ رہے ہیں جو پہلے ہی ماہر ہیں کیونکہ ان ٹولز کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے نمایاں مہارت اور علم ضروری ہیں۔

محققین کے مطابق اے آئی کا سب سے کامیاب استعمال سوشل میڈیا بوٹس چلانے میں دیکھا گیا۔

ایسے بوٹس جو خواتین کے خلاف نفرت انگیز ہراسانی کرتے ہیں یا فراڈ کے ذریعے پیسہ کماتے ہیں اور ایسے نمونوں کو چھپانے میں جو عام طور پر سائبر سکیورٹی ماہرین شناخت کر لیتے ہیں۔

تاہم محققین نے اطمینان ظاہر کیا کہ بڑے چیٹ بوٹس پر لگے حفاظتی اقدامات (guardrails) نقصان کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کے سکول آف سوشل اینڈ پولیٹیکل سائنس کے سینیئر لیکچرر ڈاکٹر بین کولیر نے کہا ’سائبر مجرم ان ٹولز کے ساتھ تجربات ضرور کر رہے ہیں مگر جو ہمیں نظر آتا ہے، یہ انہیں اپنے کام میں کوئی حقیقی فائدہ نہیں دے رہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہماری صنعت کے لیے پیغام ہے، ابھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

’اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کمپنیاں اور عام لوگ ناقص سکیورٹی والے اے آئی سسٹمز اپناتے ہیں، جو انہیں ایسے تباہ کن حملوں کے لیے کھول دیتے ہیں جنہیں سائبر مجرم کم سے کم مہارت سے انجام دے سکتے ہیں۔‘

تحقیق میں مزید پایا گیا کہ کئی سائبر کرائم کمیونٹی کے افراد اے آئی کے بڑھتے اثرات کی وجہ سے اپنی ’آئی ٹی نوکریاں‘ کھونے کے خوف میں مبتلا ہیں اور یہ خدشہ ہے کہ اس پریشانی کی وجہ سے وہ مزید سائبر جرائم کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا کہ صنعت کے لیے سب سے بڑا خطرہ غیر محفوظ ’ایجنٹک ‘ اے آئی سسٹمز اپنانے سے ہوگا۔

ایسے اے آئی سسٹمز جو خود مختار طور پر کام کر سکتے ہیں، کاموں کے فیصلے خود لے سکتے ہیں اور عمل انجام دے سکتے ہیں۔

انہوں نے ’وائب کوڈڈ‘ سافٹ ویئر کے خطرات سے بھی خبردار کیا، یعنی ایسا کمپیوٹر کوڈ جو پوری طرح اے آئی کے ذریعے لکھا گیا ہو لیکن اس میں مناسب سکیورٹی نہ رکھی گئی ہو۔

تحقیق کے نتائج کا جائزہ لیا جا چکا ہے اور وہ جون میں امریکہ کے شہر برکلے میں ہونے والی ’ورک شاپ آن دی اکنامکس آف انفارمیشن سکیورٹی‘ میں پیش کیے جائیں گے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

صدر ٹرمپ کا نئی دریافت شدہ یو ایف او فائلز ریلیز کرنے کا اشارہ

بدھ مئی 6 , 2026
Share صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ پینٹاگون ان کی انتظامیہ کی جانب سے دریافت کی گئی ’انتہائی دلچسپ‘ یو ایف او فائلوں کو جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس نے خلائی مخلوق سے متعلق ممکنہ انکشافات کے بارے میں خدشات اور شکوک پیدا کر دیے […]

You May Like