بحرِ اوقیانوس میں کروز جہاز پر ہنٹا وائرس سے تین اموات

Share

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق بحر اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز جہاز پر مشتبہ ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث تین افراد اب تک مر چکے ہیں۔

ایک مرنے والے میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پانچ مزید مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ ڈچ وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ دو ڈچ مسافر مرنے والوں میں شامل ہیں۔

امریکی ادارے سی ڈی سی کے مطابق ہنٹا وائرس دراصل وائرسز کا ایک گروپ ہے جو زیادہ تر چوہوں کے ذریعے انسانوں تک پہنچتا ہے۔ یہ وائرس عموماً ان جگہوں پر موجود آلودہ ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے جہاں چوہے رہتے ہوں۔

ماہرین کے مطابق یہ وائرس عام طور پر ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا لیکن دو بڑی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ وائرس جہاز پر کیسے پہنچا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلی Hantavirus Pulmonary Syndrome، جو lungs کو affect کرتا ہے، 
اور دوسری ہیموریجک فیور، جو kidneys پر affect ہوتی ہے۔

سی ڈی سی کے مطابق ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں، جیسے بخار، تھکن اور پٹھوں میں درد لیکن بیماری کے 4 سے 10 دن بعد علامات خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہیں۔

نیدرلینڈز میں قائم اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایک پولر ایکسپیڈیشن شپ، ایم وی ہونڈئیس پر ’ایک سنگین طبی صورت حال کو دیکھ رہی ہے‘۔ یہ کروز تقریبا تین ہفتے پہلے ارجنٹینا سے تقریبا ڈیڑھ سو مسافروں کے ساتھ روانہ ہوئی تھی۔ 

ماہرین کے مطابق ابھی تک اس وائرس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، اس لیے احتیاط ہی سب سے مؤثر بچاؤ ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

معذوری کے باوجود پاکستان بھر میں سانپوں پر تحقیق کرنے والے مدثر

بدھ مئی 6 , 2026
Share پنجاب سے تعلق رکھنے والے جسمانی طور پر معذور نوجوان محقق مدثر بصری کہتے ہیں کہ پاکستان میں 80 سے زائد اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے صرف تقریباً 10 اقسام واقعی خطرناک ہیں۔ وہ گذشتہ چھ برس سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جا کر سانپوں […]

You May Like