ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ انہوں نے امریکی تجویز پر اپنے جواب میں خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ بات ہفتہ وار بریفنگ میں کہی۔
اسماعیل بقائی نے ایرانی جواب کے بارے میں بتایا کہ اس میں ’ہم نے کوئی رعایت نہیں مانگی ہے۔ ہم نے صرف ایران کے قانون حقوق کا مطالبہ کیا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ایران کے مطالبات میں ’خطے میں جنگ کا خاتمہ، امریکی نیوی کی ناکہ بندی کے خاتمے اور ایرانی عوام کے اثاثوں جو کئی سالوں سے غیرملکی بینکوں میں غیرمنصفانہ انداز میں منجمد ہیں کی بحالی شامل ہے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی ثالث کے ذریعے ملنے والی تازہ ترین ایرانی تجاویز کو ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا تھا کہ ’میں نے ایران کے نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والی تجاویز کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہیں۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘
ایران نے اتوار کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب بھیجا تھا جس کا مقصد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں ک بعد شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا تھا۔
لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سوشل میڈیا پر فوری طور پر ’بالکل ناقابلِ قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
I have just read the response from Iran’s so-called “Representatives.” I don’t like it — TOTALLY UNACCEPTABLE! Thank you for your attention to this matter. President DONALD J. TRUMP
( TruthSocial: May 10 2026, 4:12 PM ET )… pic.twitter.com/0s8dCsgxh3
— Commentary Donald J Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) May 10, 2026
یہ خلیج میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششوں کے لیے تازہ ترین دھچکا ہے، جس نے بحری جہاز رانی کو متاثر کیا اور توانائی کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ تہران نے امریکی تجویز کو’ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور اس کے بجائے مطالبہ کیا کہ امریکہ جنگی معاوضہ ادا کرے، ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری دی جائے، پابندیاں ختم کی جائیں اور ضبط شدہ ایرانی اثاثے واپس کیے جائیں۔
واشنگٹن کی تازہ ترین تجویز میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر بات کی گئی تھی۔
ٹرمپ نے ایرانی جواب کو مسترد کرتے ہوئے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ اس سے قبل ایک اور پوسٹ میں انہوں نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ تقریباً پچاس برس سے امریکا کے ساتھ ’کھیل کھیل رہا‘ ہے اور مزید کہا: ’اب وہ ہنس نہیں سکیں گے۔‘
امریکی سفیر برائے اقوامِ متحدہ، مائیک والٹز نے اے بی سی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ’ہر ممکن موقع دے رہے ہیں تاکہ دوبارہ دشمنی کی طرف جانے سے پہلے امن قائم ہو سکے۔‘
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا تھا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے (مستقل جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز) پر جواب موصول ہو گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسلام آباد میں ’معرکہ حق‘ کی پہلی سالگرہ کے موقعے پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر شہباز شریف نے کہا: ’خطے میں اور دنیا میں پائیدار امن کی خاطر ہماری مخلصانہ کاوشیں اب بھی جاری ہیں، مجھے فیلڈ مارشل نے ابھی مجھے بتایا کہ ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے، لیکن میں ابھی اس کی تفصیل نہیں بنا سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایران میں بھی امن قائم کرنے کے حوالے سے بھی پاکستان اپنی سفارتی کاوشیں انتہائی خلوص کے ساتھ بروئے کار لا رہا ہے۔‘
شہباز شریف کے بقول: ’اس حوالے سے ہم نے نہ صرف فریقین کو عارضی جنگ بندی پر قائل کیا بلکہ 1979 کے بعد انہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔‘
اتوار کو ہی ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاکستانی ثالثوں کو تازہ ترین امریکی تجویز پر اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے۔

