اپنے جواب میں جنگ کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا: ایران

Share

ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ انہوں نے امریکی تجویز پر اپنے جواب میں خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ بات ہفتہ وار بریفنگ میں کہی۔

اسماعیل بقائی نے ایرانی جواب کے بارے میں بتایا کہ اس میں ’ہم نے کوئی رعایت نہیں مانگی ہے۔ ہم نے صرف ایران کے قانون حقوق کا مطالبہ کیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایران کے مطالبات میں ’خطے میں جنگ کا خاتمہ، امریکی نیوی کی ناکہ بندی کے خاتمے اور ایرانی عوام کے اثاثوں جو کئی سالوں سے غیرملکی بینکوں میں غیرمنصفانہ انداز میں منجمد ہیں کی بحالی شامل ہے۔‘

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی ثالث کے ذریعے ملنے والی تازہ ترین ایرانی تجاویز کو ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا تھا کہ ’میں نے ایران کے نام نہاد قیادت کی جانب سے ملنے والی تجاویز کو پڑھا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہیں۔ مجھے یہ پسند نہیں۔‘

ایران نے اتوار کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب بھیجا تھا جس کا مقصد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں ک بعد شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا تھا۔

 لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سوشل میڈیا پر فوری طور پر ’بالکل ناقابلِ قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

 یہ خلیج میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششوں کے لیے تازہ ترین دھچکا ہے، جس نے بحری جہاز رانی کو متاثر کیا اور توانائی کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ تہران نے امریکی تجویز کو’ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور اس کے بجائے مطالبہ کیا کہ امریکہ جنگی معاوضہ ادا کرے، ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری دی جائے، پابندیاں ختم کی جائیں اور ضبط شدہ ایرانی اثاثے واپس کیے جائیں۔

واشنگٹن کی تازہ ترین تجویز میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر بات کی گئی تھی۔

ٹرمپ نے ایرانی جواب کو مسترد کرتے ہوئے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ اس سے قبل ایک اور پوسٹ میں انہوں نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ تقریباً پچاس برس سے امریکا کے ساتھ ’کھیل کھیل رہا‘ ہے اور مزید کہا: ’اب وہ ہنس نہیں سکیں گے۔‘

امریکی سفیر برائے اقوامِ متحدہ، مائیک والٹز نے اے بی سی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ’ہر ممکن موقع دے رہے ہیں تاکہ دوبارہ دشمنی کی طرف جانے سے پہلے امن قائم ہو سکے۔‘

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا تھا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے (مستقل جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز) پر جواب موصول ہو گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد میں ’معرکہ حق‘ کی پہلی سالگرہ کے موقعے پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر شہباز شریف نے کہا: ’خطے میں اور دنیا میں پائیدار امن کی خاطر ہماری مخلصانہ کاوشیں اب بھی جاری ہیں، مجھے فیلڈ مارشل نے ابھی مجھے بتایا کہ ایران کی جانب سے جواب موصول ہو گیا ہے، لیکن میں ابھی اس کی تفصیل نہیں بنا سکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایران میں بھی امن قائم کرنے کے حوالے سے بھی پاکستان اپنی سفارتی کاوشیں انتہائی خلوص کے ساتھ بروئے کار لا رہا ہے۔‘

شہباز شریف کے بقول: ’اس حوالے سے ہم نے نہ صرف فریقین کو عارضی جنگ بندی پر قائل کیا بلکہ 1979 کے بعد انہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔‘

اتوار کو ہی ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاکستانی ثالثوں کو تازہ ترین امریکی تجویز پر اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اقوام متحدہ غزہ میں سعودی امدادی سرگرمیوں کا معترف

پیر مئی 11 , 2026
Share اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے دفتر کے ایک وفد نے کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے زیرِ انتظام منصوبوں کے دورے کے دوران غزہ میں سعودی عرب کی امدادی کارروائیوں کو سراہا ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق اقوامِ متحدہ کے […]

You May Like