انڈیا سے مستقبل کا کوئی بھی تنازع شدید تباہی کا باعث ہو گا: پاکستان فوج

Share

پاکستان فوج نے ہفتے کو ایک بیان میں انڈیا کو خبردار کیا کہ مستقبل کا کوئی بھی آپسی تنازع شدید تباہی کا سبب بن سکتا ہے اور یہ کہ پاکستان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پرعزم انداز میں جوابی کارروائی کرے گا۔

انڈین آرمی چیف جنرل اپیندر دواِیدی نے گذشتہ روز پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ’ریاستی سپانسرڈ دہشت گردی‘ بند نہیں کرتا تو اسے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بار انڈین افواج ’کوئی تحمل یا بردباری نہیں دکھائیں گی۔‘

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انڈین فضائیہ کے سربراہ امر پریت سنگھ نے جمعے کو دعویٰ کیا تھا کہ مئی میں دونوں ملکوں کے درمیان شدید لڑائی کے دوران انڈیا نے ایف-16 اور جے ایف-17 کلاس کے پانچ پاکستانی لڑاکا طیارے مار گرائے تھے۔

اسی طرح  انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس ہفتے کے آغاز میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’ہمارے سپاہیوں کے پاس ہتھیار بھی ہیں اور بلند حوصلہ بھی۔ کوئی چیلنج ہمارے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ چاہے وہ دہشت گردی ہو یا کسی اور نوعیت کا مسئلہ — ہم ان سب سے نمٹنے اور اُنہیں شکست دینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

پاکستان فوج کے ترجمان محکمے آئی ایس پی آر کے آج جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ’ہم نے انڈین سکیورٹی اداروں کی سب سے اعلیٰ سطح سے آنے والے اشتعال انگیز اور جارحانہ بیانات انتہائی تشویش کے ساتھ نوٹ کیے ہیں۔ 

’یہ غیر ذمہ دارانہ بیانات جارحیت کے بہانے تراشنے کی ایک نئی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہیں، ایک ایسی صورتِ حال جو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔‘

’انڈین وزیر دفاع اور اس کے فوجی و فضائی سربراہان کے انتہائی اشتعال انگیز بیانات کے پیش نظر ہم انتباہ کرتے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی تنازع تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ 

’اگر کسی نئی لڑائی کا آغاز ہوا تو پاکستان پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم بلا جھجھک اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے منہ توڑ جواب دیں گے۔‘

بیان کے مطابق دہائیوں سے انڈیا نے خود کو متاثرہ فریق کے طور پر پیش کر کے اور پاکستان کی ساکھ بدنام کر کے فائدہ اٹھایا، جبکہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تشدد کو ہوا دینے اور دہشت گردی کا ارتکاب کرنے میں بھی ملوث رہا ہے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہ بیانیہ کافی حد تک بے نقاب ہو چکا اور اب دنیا انڈیا کو سرحد پار دہشت گردی کا اصل چہرہ اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز تسلیم کرتی ہے۔‘

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’اس سال کے آغاز میں انڈیا کی جارحیت نے دو ایٹمی قوتوں کو بڑے جنگ کے کنارے تک پہنچا دیا۔ 

’تاہم لگتا ہے انڈیا اپنے طیاروں کے ملبے اور پاکستان کے طویل فاصلے کے حملہ آور ہتھیاروں کے انتقام کو بھول چکا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا ’جو نیا نارمل قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان نے ردِعمل کا ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے، جو تیز، فیصلہ کن اور تباہ کن ہے۔ 

’بلا جواز خطرات اور لاپرواہی پر مبنی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کے عوام اور مسلح افواج میں دشمن کی سرزمین کے ہر کونے تک لڑائی لے جانے کی صلاحیت اور عزم موجود ہے۔ 

’جہاں تک پاکستان کو نقشے سے مٹانے کی بات ہے، انڈیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ایسا موقع آیا تو یہ مٹنا باہمی ہو گا۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کراچی پولیس نے چوری شدہ لگژری گاڑی کی تلاش کے لیے انٹرپول سے مزید معلومات مانگ لیں

پیر اکتوبر 6 , 2025
Share صوبہ سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے انٹرپول اور برطانوی پولیس سے درخواست کی ہے کہ وہ برطانیہ سے چوری ہونے والی اس لگژری گاڑی کے ٹریکر کی تازہ تفصیلات فراہم کریں جو حال ہی میں کراچی میں دیکھی گئی۔ 11 نومبر، 2022 کو برطانیہ […]

You May Like