واشنگٹن میں افغان شہری کا حملہ سنگین خطرات کی عکاسی کرتا ہے: پاکستان

Share

پاکستان نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جمعے کو کہا ہے کہ یہ واقعہ سرحد پار دہشت گردی سے جنم لینے والے سنگین خطرات کا عکاس ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعے کو ایک بیان میں کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور مضبوط تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وائٹ ہاؤس کے قریب گذشتہ بدھ کو ایک فغان شہری کی فائرنگ سے امریکی نیشنل گارڈ کے دو اہلکار زخمی ہوئے تھے جن میں سے ویسٹ ورجینیا کی زخمی ہونے والی 20 سالہ سپیشلسٹ سارہ بیکسٹروم جمعرات کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں جبکہ 24 سالہ سٹاف سارجنٹ اینڈریو وولف ’زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کو فائرنگ کا ملزم نامزد کیا گیا ہے اور وہ ماضی میں افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ کام کر چکا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائرنگ کے اس واقعے واقعے کو ’دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا اور بائیڈن انتظامیہ کو ان افغانوں کے امریکہ میں داخلے کو ممکن بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے افغان جنگ کے دوران امریکی افواج کے ساتھ کام کیا تھا۔ 

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بیان میں فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’حملہ دہشت گردی کا واضح مظہر ہے اور امریکی سرزمین پر ایک سنگین جرم کے مترادف ہے۔‘

وزارت خارجہ نے کہا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان خود ایسے ’بے شمار دہشت گردانہ واقعات کا سامنا کرتا رہا ہے جن کا تانا بانا افغانستان سے ملتا ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے مابین اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے تناؤ کی کیفیت ہے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند سرحد پار حملے کرتے ہیں اور انہیں انڈین سرپرستی حاصل ہے، لیکن کابل اور نئی دہلی اس کی تردید کرتے ہیں۔

افغانستان نے رواں ہفتے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے خوست میں فضائی حملے کیے جن میں 10 افراد مارے گئے، لیکن پاکستان فوج نے اس کی تردید یہ کہتے ہوئے کی کہ ’ہماری پالیسی دہشت گردی کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔‘

دفتر خارجہ کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ’سرحد پار دہشت گردی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ امریکہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر ’دہشت گردی‘ کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھے گا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ ’دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی کاوشوں کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے اور عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

تاجکستان حملہ

اس سے ایک روز قبل پاکستان نے تاجکستان میں افغان سرحد کے قریب چینی شہریوں کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے چینی اور تاجک حکومتوں اور عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا بھی تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا: ’پاکستان چینی باشندوں پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اس واقعے میں مسلح ڈرونز کے استعمال، افغانستان سے جنم لینے والے خطرے کی سنگینی اور اس میں ملوث عناصر کی دیدہ دلیری کو اجاگر کرتا ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تاجک حکام نے جمعرات کو بتایا کہ تاجکستان میں افغانستان سے سرحد کے قریب کیے گئے ایک حملے میں تین چینی کارکن جان سے گئے۔

تاجکستان کے افغانستان میں طالبان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور حالیہ مہینوں میں متعدد بار سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

PTI Stages Strong Protest in Senate Over Being Denied Meeting with Imran Khan

جمعہ نومبر 28 , 2025
Share اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ان سے ملاقات نہ کرانے پر پی ٹی آئی نے آج بھی سینیٹ میں شدید احتجاج کیا، اجلاس میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کراؤ کی نعرہ بازی بھی کی گئی۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری […]

You May Like