کراچی: ایران میں میزائل حملے میں مرنے والے یاسر خان کے اہل خانہ میت کے منتظر

Share

کراچی کے علاقے ماڑی پور یونس آباد میں ایک گھر پچھلے سات دنوں سے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ گھر یاسر خان کا ہے، جو ایران کی بندرگاہ  بندر عباس میں ایک ٹگ بوٹ پر کام کرتے ہوئے 23 مارچ کی شب ہونے والے میزائل حملے میں جان کی بازی ہار گئے۔

گھر کا دروازہ کھلتا ہے تو تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا، اور مرحوم یاسر خان کا  تین سالہ معصوم بچہ ذوہان اپنے تایا کی گود میں خاموش بیٹھا ہے، بے خبر اس حقیقت سے کہ اس کے والد اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔

اہلِ خانہ کے مطابق، یاسر گذشتہ چھ ماہ سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس ٹگ بوٹ پر ملازمت کر رہے تھے۔ یہ روزگار ان کے لیے محض نوکری نہیں بلکہ اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کی امید تھا۔

مگر 23 مارچ کو اچانک حملے نے ان کی زندگی کا سفر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے 28 فروری سے جاری ہیں جبکہ اسی دوران ایران نے بھی جوابی کارروائیوں میں پڑوسی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یاسر کے بڑے بھائی واجد خان کی آواز میں کرب صاف محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آخری بار بھائی سے بات ہوئی تو وہ بہت پریشان تھا۔ اس نے کہا کہ کمپنی سے بات کریں کہ مجھے واپس بلایا جائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم کئی بار ایجنٹ کے پاس گئے، درخواست کی کہ جنگی حالات ہیں، اسے واپس لے آئیں، مگر ہمیں یہی کہا گیا کہ رابطہ نہیں ہو رہا۔ پھر کال کرنے پر رابطہ نہ ہو سکا اور ہمارے اہل خانہ یاسر کی خیریت کو لے کر بے چین ہو گئے  اور اچانک ہمیں اس کی موت کی خبر آ گئی۔‘

واجد خان کہتے ہیں کہ ’یہ خبر صرف ایک اطلاع نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا صدمہ تھا جس نے پورے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا۔ خاص طور پر اس بچے کے لیے جو ابھی باپ کے سائے کی اہمیت بھی نہیں سمجھ سکا۔‘

یاسر خان کے والد اقبال پاشا اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے ضبط کھو بیٹھتے ہیں اور آنکھوں میں آنسو لیے کہتے ہیں کہ ’یاسر بہت فرمانبردار اور سب کا لاڈلا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہم اس سے آخری بار بات کر رہے ہیں۔ جب اس سے رابطہ نہ ہوا تو ہم پریشان ہو گئے، پھر اس کے زخمی دوست سبحان نے حادثے کی خبر دی۔

’گھر میں موجود ہر چیز، ہر کونا، یاسر کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے کپڑے، اس کی آواز، اس کی باتیں سب کچھ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔‘

سات دن گزر چکے ہیں، مگر اہلِ خانہ کے مطابق نہ تو کسی حکومتی ادارے نے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی میت کی واپسی کے لیے کوئی عملی پیش رفت ہوئی ہے۔

اہلِ خانہ اب حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی میت کو جلد از جلد وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ان کے کمسن بیٹے کی کفالت کے لیے مدد فراہم کی جائے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پشاور: ’پائیدار امن‘ کے لیے پاک افغان امن جرگہ آج

منگل مارچ 31 , 2026
Share قومی اصلاحی تحریک اور ایسپائر کے پی نامی تنظیم کے زیر اہتمام پاکستان افغان امن جرگہ کے نام سے نشست منگل یعنی آج پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر میں منعقد ہوگی جس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس امن جرگے کی میزبانی […]

You May Like