کراچی: موت کے بعد بیٹے کے گردے عطیہ کرنے والی ماں نے دو جانیں بچائیں

Share

شہر قائد کہلائے جانےو الے کراچی میں ایک ماں نے اپنے بیٹے کی موت کے بعد اس کے دونوں گردے عطیہ کر دیے۔ وصول کرنے والے دونوں مریضوں کی صحت بہتر ہے۔

یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ کہ ایک نوجوان ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہو گیا اور ڈاکٹروں نے اسے دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا۔

23 جولائی 2025 کا دن ان کی زندگی کا سب سے کربناک دن بن گیا، جب ان کے 22 سالہ اکلوتے بیٹے سلطان ظفر ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہو گئے.

ڈاکٹر مہر افروز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’مجھے دوپہر کے وقت ایک کال آئی، کسی نے کہا آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ میں دوڑتی ہوئی ہسپتال پہنچی، لیکن وہاں جا کر ڈاکٹر نے کہا کہ سلطان کی دماغی موت ہو چکی ہے۔ ایک پل میں میری ساری دنیا اجڑ گئی۔‘

29 جولائی کو ڈاکٹر نے سلطان ظفر کو دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا۔

ڈاکٹر مہر افروز کے مطابق ’سلطان ظفر ایک حساس دل اور خدمتِ خلق سے سرشار نوجوان تھے۔ وہ بطور طالب علم ایس آئی یو ٹی میں رضاکارانہ خدمات بھی انجام دے چکے تھے۔ ایک بار انہوں نے اپنی مجھ  سے کہا تھا کہ ’امی، جن لوگوں کا ڈائلیسز ہوتا ہے، وہ بڑی تکلیف سے گزرتے ہیں۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اپنا گردہ دے دیتا۔ ایک گردہ تو دے ہی سکتا ہوں۔‘

ماں (مہر افروز) نے بیٹے کے اس جذبے کو اُس وقت یاد رکھا جب خود ان کی دنیا اندھیر ہو گئی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میرا بیٹا تو چلا گیا، لیکن اس کی خواہش اور انسانیت کے لیے جذبہ میرے فیصلے کی بنیاد بنا۔‘

مہر افروز نے انڈپینڈنٹ اردو سے اس وقت کو دہراتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے خود ایمبولینس بلوائی اور تکلیف دہ لمحے میں غم سے نڈھال ہونے کے باوجود سلطان کی لاش  کو ہسپتال لے کر پہنچی اور بیٹے کے دونوں گردے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کو عطیہ کر دیے تاکہ وہ دو زندگیوں کو نئی امید دے سکیں۔‘

مہر افروز کے مطابق ان کے بیٹے سلطان کے دونوں گردے دو علیحدہ مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہیں اور دونوں مریض اب روبہ صحت ہیں۔ جنہیں سالوں سے ڈائلیسز پر رکھا گیا تھا۔ دونوں مریض اب صحتیاب ہو رہے ہیں اور نئی زندگی کے امکانات روشن ہو چکے ہیں۔

’30 جولائی کو میں نے اپنے بیٹے کو سپرد خاک کیا۔‘

مریضوں میں ایک لڑکی ہے جس کی عمر 19 سال ہے جبکہ ایک مرد ہیں جنہوں نے نئی زندگی پاکر مہر افروز کو ایک وائس ناٹ بھیجا جس میں وہ اس ماں کا شکریہ ادا کر رہے تھے جس نے اتنی ہمت دکھائی۔

سلطان اب دنیا میں نہیں، مگر ان کا جذبہ، ان کی سوچ، اور ان کا جسمانی حصہ آج بھی کسی کی زندگی کا سبب بن رہا ہے اور ’میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک اچھا کام کر دیا اگر میں اس کے اعضا عطیہ نہ کرتی  تو میرے لیے اس کی موت کو تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا۔‘

مہر افروز نے سلطان کی ذاتی زندگی پر بھی تبصرہ کیا انہوں نے بتایا کہ ’جو بچپن سے کرکٹر بننے کا خواب دیکھتا تھا، زندگی کی حقیقتوں کو سمجھتے ہوئے سپورٹس کو خیرباد کہہ کر خاندانی روایت کو اپناتے ہوئے میڈیکل کے شعبے میں آگیا۔

باپ کے 2019 میں انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کا سہارا بننے کی پوری کوشش کرتا رہا۔ ذمہ دار، احساس رکھنے والا اور زندگی سے بھرپور نوجوان سلطان ظفر آج جب اُسے ’مرحوم‘ کہہ کر یاد کرتے ہیں تو کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے، دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔

’میں اسے ہر جگہ، ہر لمحے، اپنی کھلی آنکھوں سے محسوس کرتی ہوں۔ سلطان جیسے کبھی گیا ہی نہیں، وہ ہر سانس میں، ہر دعا میں زندہ ہے۔‘

ایک ماں کے اس فیصلہ نے معاشرے کے لیے یہ پیغام چھوڑ دیا کہ  دکھ کے لمحوں میں بھی انسانیت کا چراغ روشن رکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اعضا کے عطیے جیسے ’عظیم عمل‘ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ ’وہ مریض جو برسوں سے نئی زندگی کے منتظر ہیں، ایک بار پھر سانس لے سکیں، جینے کی امید باندھ سکیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کرک میں ایف سی کی گاڑی پر فائرنگ، ڈرائیور سمیت چار اہلکار جان سے گئے: پولیس

بدھ اگست 6 , 2025
Share خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس کے مطابق بدھ کو فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت تین اہلکار جان سے چلے گئے۔ کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ میں گرگری تھانے کے حدود میں پیش آنے والے اس واقعے کے حوالے […]

You May Like