پاکستانی افغان وزرائے خارجہ رابطہ: زلزلہ متاثرین کے لیے 105 ٹن امدادی سامان روانہ

Share

پاکستان نے بدھ کو افغانستان میں آنے والے حالیہ زلزلے میں متاثر ہونے والے افراد کے لیے 105 ٹن امدادی سامان روانہ کر دیا ہے۔

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو ایکس پر بتایا ہے کہ ان کی اپنے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے۔

افغان حکام کے مطابق مشرقی افغانستان میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب آنے والے زلزلے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 1457  ہو گئی ہے جبکہ تین ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر ایک بیان میں تازہ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے کنڑ میں زخمیوں کی تعداد 3394 ہو گئی ہے جبکہ 6782 مکانات ’تباہ‘ ہوئے ہیں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ انہوں نے افغان ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں اموات پر تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسحاق ڈار نے امیر خان متقی سے کہا کہ ’پاکستان اس مشکل وقت میں اپنے برادر ملک افغانستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

اس حوالے سے پاکستان نے بدھ کو کھانے پینے کی ضروری اشیا سمیت دواؤں، خیموں اور ببل میٹس سمیت 105 ٹن امدادی سامان روانہ کیا ہے۔

ریسکیو آپریشنز اور امدادی سرگرمیاں

طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے بدھ کو ایکس پر اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

حمد اللہ فطرت نے بتایا کہ متعدد ممالک کی پیشہ ور ریسکیو ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں اور امدادی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بند سڑکوں کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، اور تمام سرکاری ادارے عوام کے تعاون سے متاثرین کی مدد کے لیے کوشاں ہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سندھ میں ’سپر فلڈ‘ کی صورت حال پیدا نہیں ہوگی: ماہرین آبپاشی

بدھ ستمبر 3 , 2025
Share پاکستان میں حالیہ بارشوں اور انڈیا کے ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ چار ستمبر کو جب سیلابی ریلا گڈو بیراج سے گزرے گا تو ’سپر فلڈ‘ کی صورت حال پیدا نہیں […]

You May Like