انڈیا لداخ میں احتجاج دبانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے: پاکستان

Share

پاکستان نے جمعے کو ایک بیان میں لداخ میں جاری احتجاج کے دوران اموات کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈین حکام احتجاج کو دبانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

چین اور پاکستان کے ساتھ سرحد پر واقع اور تقریباً تین لاکھ نفوس پر مشتمل ہمالیائی خطے لداخ کے شہر لیہ میں حالات اس وقت شدید کشیدہ ہو گئے جب زیادہ سیاسی خودمختاری کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج پر سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر دی۔

پرتشدد واقعات میں کم از کم پانچ اموات اور تقریباً 100 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 30 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

اس حوالے سے سوال پوچھے جانے پر آج اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ’ہم صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لیہ، انڈین غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر، میں پیش آنے والے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔‘

بیان کے مطابق ’یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ انڈین حکام احتجاج کو دبانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ اس مقبوضہ خطے میں انڈیا کے آہنی ہاتھوں پر مبنی رویے کی ایک اور جھلک ہے۔‘

جمعے کو انڈین پولیس نے ممتاز کارکن سونم وانگچک کو لداخ میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے سلسلے میں حراست میں لے لیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی دہلی نے اس بے چینی کا الزام وانگچک کی ’اشتعال انگیز تقاریر‘ پر عائد کیا، جو لداخ کے لیے مکمل صوبائی حیثیت یا مقامی قبائل، زمین اور نازک ماحول کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے پر بھوک ہڑتال پر تھے۔

ایپکس باڈی لیہ کے وکیل مصطفیٰ حاجی نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس نے وانگچک کو ان کے گاؤں اُلے ٹوپو سے ’اٹھا لیا‘۔

مودی حکومت نے 2019 میں لداخ کو انڈین انتظامی کشمیر سے الگ کر کے براہِ راست وفاقی حکومت کے تحت کر دیا تھا۔

ابھی تک نئی دہلی نے لداخ کو انڈیا کے آئین کے ’چھٹے شیڈول‘ میں شامل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا، جس کے تحت مقامی عوام کو اپنے قوانین اور پالیسیاں بنانے کا اختیار ملتا ہے۔

انڈیا کی فوج لداخ میں بڑی تعداد میں موجود ہے، جہاں چین کے ساتھ متنازع سرحدی علاقے بھی شامل ہیں۔

2020 میں دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے آ گئی تھیں، جس میں کم از کم 20 انڈین اور چار چینی فوجی مارے گئے تھے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

غزہ میں قتل عام روکنے اور سیکیورٹی کیلئے کوئی بھی کردار ادا کرنے پر خوشی ہوگی، وزیراعظم

جمعہ ستمبر 26 , 2025
Shareوزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سےملاقات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم فلسطینیوں کا قتل عام روکنے اور غزہ کی سیکیورٹی کے لیے پاکستان کو کوئی بھی کردار ادا کرنے پر خوشی ہوگی۔ نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد وزیراعظم […]

You May Like