افغانستان 48 گھنٹوں میں بات کر کے معاملات طے کرنا چاہے تو ہم تیار ہیں: شہباز شریف

Share

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ ان کے پاس معاملات طے کرنے کے لیے 48 گھنٹے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’جو تشدد کر رہے ہیں اور پاکستان پر حملہ آور ہیں دہشت گرد ان کا خاتمہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان صورت حال کشیدہ ہیں جہاں گذشتہ ہفتے کہ دوران پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کا جواب دیا گیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ان حالیہ جھڑپوں کے بعد 15 اکتوبر کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ افغانستان کی درخواست پر 48 گھنٹوں کے لیے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کابینہ اجلاس میں بتایا کہ ’انہوں (افغان حکام) نے کہا کہ ہم سیز فائر چاہتے ہیں اور کل ہم نے 48 گھنٹوں کے لیے عارضی سیز فائر کا فیصلہ کیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ان 48 گھنٹوں میں اگر وہ ہماری جائز شرائط پر بات چیت کر کے معاملات کو طے کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں اور یہ پیغام ان کو کل دے دیا گیا ہے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’خلوص سے کوششیں کی گئیں کہ افغان حکومت کو سمجھایا جائے کہ وہاں بسنے والے کروڑوں لوگ ہمارے بھائی اور بہن ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’پاکستان نے اپنے افغان بھائی بہنوں کے لیے ہمیشہ خلوص دل کے ساتھ جو کچھ بھی کیا اپنا فرض سمجھتے ہوئے کیا۔‘

شہباز شریف نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’لیکن اس کے نتیجے میں جس طرح وہاں سے دہشت گرد آپریٹ کر رہے ہیں، ان کو کھلی چھٹی ہے اور وہ نہ صرف پاکستان میں بے گناہ شہریوں کو شہید کر رہے ہیں، افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں کو شہید کیا، قانون نافذ کرنے والوں پولیس اہلکاروں کو شہید کیا۔‘

پاکستان پر حملے اور جوابی کارروائی کے بارے میں شہباز شریف نے کہا کہ ’حالیہ واقعات کے بعد صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ اس سے پہلے نائب وزیر اعظم ایک سے زیادہ مرتبہ کابل جا چکے، وزیر دفاع جا چکے اور دوسرے حکام کابل گئے اور ان کے ساتھ بڑے اچھے طریقے سے بات کی کہ ہم ہمسایہ ملک ہیں ہم نے قیامت تک ساتھ رہنا ہے۔

’بدقسمتی سے تمام کاوشوں کے باوجود یہ نہ ہوا اور مکمل طور پر ہندوستان کی شے پر جس طرح یہ حملہ ہو رہا تھا پاکستان پر تو ان کے (افغانستان) کے وزیر خارجہ متقی دہلی میں تھے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’مجبوراً افواج پاکستان کو جواب دینا پڑا جو ہم نے دیا ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پنجاب حکومت کا تحریک لبیک پر پابندی کے لیے وفاقی حکومت سے سفارش کا فیصلہ

جمعرات اکتوبر 16 , 2025
Share پنجاب حکومت نے حالیہ پرتشدد مارچ کے بعد تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے  کے لیے وفاقی حکومت سے سفارش کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹی ایل پی نے 10 اکتوبر کو ’لبیک یا اقصیٰ‘ کے نام سے لاہور تا اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا، […]

You May Like