صوبہ خیبرپختونخوا کی وادی تیراہ میں مجوزہ فوجی آپریشن کے تناظر میں مقامی لوگوں کی شدید سردی میں نقل مکانی کے معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومت ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہی ہیں۔
یہ معاملہ ایک ایسے وقت پر شدت سے سامنے آیا ہے جب جمعے کو تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے بڑی تعداد میں خاندان ضلع خیبر میں برفانی طوفان میں پھنس گئے تھے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ان میں سے 1,500 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے.
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے سوات میں ایک ریلی سے خطاب میں الزام عائد کیا تھا کہ فوج اور آئی جی ایف سی نے 24 رکنی کمیٹی کو مجبور کیا تھا کہ لوگ تیراہ سے نقل مکانی کریں۔
تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف مجوزہ فوجی آپریشن کی وجہ سے مقامی افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کے محکمہ ریلیف، بحالی اور آبادکاری کی جانب سے 26 دسمبر، 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے ممکنہ عارضی اور رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی نقل و حمل، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، عارضی قیام اور رجسٹریشن مراکز کے قیام و انتظام سمیت دیگر تیاری اور امدادی اقدامات کے لیے تقریباً چار ارب روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ انخلا عارضی اور رضاکارانہ ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ انخلا مبینہ طور پر فوج کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔
تاہم وفاقی حکومت نے اتوار کو مبینہ طور پر فوج کے احکامات پر تیراہ وادی کو ’خالی‘ کرنے کے دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دے دیا۔
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے آج ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ’حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔
’وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ’قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں اور اس دوران پرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
’ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔‘
بیان میں وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقامی آبادی ’تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے۔‘
مزید کہا گیا کہ ’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئیں۔
’اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور عمل کیمپوں کے بغیر مکمل کیا جائے گا۔‘
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ ’صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدے دار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔
’ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔‘
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دفتر سے جاری ایک بیں میں کہا گیا کہ آج صبح وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ایک نوٹفکیشن ’صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم کا پروانہ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’اس سے تھوڑا بہت جو اعتماد ہمارے درمیان تھا وہ ختم ہو گیا۔‘
خیبر پختونخوا حکومت کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی حکومت کا بیان کو ’بے بنیاد، من گھڑت اور عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی اور آپریشن کا سارا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ سے لوگ آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہیں اور اس حوالے سے خواجہ آصف اور طلال چوہدری کی قومی اسمبلی میں تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں۔
شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وادی تیراہ میں آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف بارہا واضح کر چکے ہیں اور صوبائی اسمبلی جرگہ امن میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس آپریشن کی مخالفت کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے صوبائی حکومت کے چار ارب روپے کے اجرا پر وفاقی حکومت کا بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا زبردستی نقل مکانی پر مجبور متاثرین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے؟‘
’صوبائی حکومت نے انخلا کرنے والے متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کے لیے بروقت فنڈز جاری کیے، وفاقی حکومت کی بے حسی افسوس ناک ہے۔‘

