ساہیوال میں مبینہ اغوا کا مقدمہ دوسال بعد درج

Share

صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں ایک مبینہ اغوا کا مقدمہ واقعے کے دو سال بعد درج کر لیا گیا۔

مقدمے کے مدعی محمد اشرف نے بتایا کہ ان کا اکلوتا بیٹا بلال اشرف دو سال قبل 22 جون، 2023 کو دوپہر 12 بجے میڈیکل سٹور سے دوائی لینے نکلا لیکن واپس نہیں آیا۔

اشرف کے مطابق پہلے وہ بلال کو خود ڈھونڈتے رہے لیکن کچھ معلوم نہ ہو سکا پھر انہوں نے تھانہ فرید ٹاؤن سے رجوع کیا لیکن اس وقت کے عملے نے ان کا مقدمہ درج نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ متعدد بار مقدمہ درج کروانے گئے لیکن انہیں ناکامی کا سامنا رہا۔

’ہماری ایف آئی آر اب بھی ڈی پی او ساہیوال کے حکم پر درج ہوئی کیونکہ ہم نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دفتر میں درخواست دی تھی جس کے بعد پنجاب پولیس نے ایف آئی آر درج کروانے میں مدد دی۔‘

ایف آئی میں مدعی اشرف نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کی منگنی محمد امین نامی شخص کی بیٹی سے طے تھی، لیکن محمد امین لالچ کی وجہ سے اس رشتے سے گریزاں تھے۔ 

’میرا بیٹا وہیں شادی کرنا چاہتا تھا۔ اسی وجہ سے محمد امین نے میرے بیٹے کو اغوا کر کے غائب کر دیا۔ 

’میں محمد امین سے اپنے بیٹے کی بازیابی کی کوشش کرتا رہا اور اسے تلاش کرتا رہا لیکن بیٹا بازیاب نہیں ہوا۔‘

اشرف نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک سٹور پر کام کرتا تھا جبکہ وہ خود سموسوں کی ریڑھی لگاتے ہیں۔

’اب جب ہم نے ایف آئی آر درج کروائی تو محمد امین کو آس پاس کے لوگوں نے ایف آئی آر کا بتا دیا جس کے بعد انہوں نے اپنی عبوری ضمانت کروا لی۔‘

ایس ایچ او تھانہ فرید ٹاؤن عامر فاروق مقدمے کے اندراج میں تاخیر کے حوالے سے کہتے ہیں ’ایف آئی آر تب ہی درج ہونی تھی جب انہوں نے تھانے آنا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم نے بھی ان سے پوچھا کہ ایف آئی آر درج کروانے میں اتنا عرصہ کیوں لگا تو انہوں نے بتایا کہ بیٹے سے کچھ جھگڑا تھا تو ہم نے سوچا کہ وہ ناراض ہو کر خود کہیں چلا گیا ہے اس لیے ہم اسے خود ڈھونڈتے رہے۔‘

تاہم اشرف اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں ان کا بیٹے سے کوئی جھگڑا تھا نہ انہوں نے تھانے میں ایسی کوئی بات کی۔

ایس ایچ نے یہ بھی بتایا کہ جن لوگوں کو مدعی نے مقدمے میں نامزد کیا ہے ان کے بارے میں مدعی ہمیں آ کر بتائے اور ہم سے بات کرے کہ کیا کارروائی کرنی ہے۔ 

’مدعی مقدمہ درج کروانے کے بعد سے تھانے نہیں آیا البتہ ہم نے مغوی کی تلاش خود شروع کر دی ہے۔

’چونکہ واقعہ دو سال پرانا ہے اس لیے اس کی سی سی ٹی وہ فوٹیج تو دستیاب نہیں ہو گی، البتہ ہم نے مغوی کے دوست احباب سے پوچھ گچھ  کا آغاز کر دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں نامزد افراد کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

وزیر اعظم پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی ختم کروائیں: گورنر کے پی

منگل اکتوبر 28 , 2025
Share خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پیر کو وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے میں گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر لگائی گئی ’غیر آئینی پابندیوں‘ کے خلاف مداخلت کریں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پنجاب حکومت کو […]

You May Like