میری ٹائم ایکسپو: پاکستانی ڈرونز اور بغیر پائلٹ کے دفاعی سسٹمز کی دھوم

Share

ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث مستقبل کی جنگیں اب مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کی مدد سے چلنے والے ہتھیاروں سے لڑی جائیں گی۔

یہ پیغام ہے کراچی میں جاری پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا، جہاں دنیا بھر سے بحری صنعتوں کے ماہرین اور دفاعی شعبے کے نمائندے موجود ہیں۔  

چار روزہ ایکسپو میں دلچسپی کا مرکز وہ جدید نظام تھے، جو انسانی مداخلت کے بغیر خودکار طور پر کام کرتے ہیں، جن میں بغیر انسان کے مصنوعی ذہانت کی مدد سے خود فیصلے کرنے والے، راستے متعین کرنے اور ہدف تک پہنچنے والے آلات رکھے گئے ہیں۔

پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف لڑی گئی جنگ ’بنیان المرصوص‘ میں استعمال ہونے والا پاکستان کا پہلا ملٹی رول ڈرون بھی یہاں رکھا گیا ہے۔

اس ڈرون کو بنانے والی کمپنی کے انجینیئر عبدالرافع نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’یہ ڈرون پاکستان کا پہلا ایسا کوپٹر ہے جو ایک ہی پلیٹ فارم پر متعدد کام انجام دیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا ریپلیس ایبل پے لوڈ سسٹم ہے، جو مختلف سائز کے مارٹرز یا ایس ایم جی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ٹریز (trays) کو آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، تاکہ مشن کی نوعیت کے مطابق ڈرون کی صلاحیت کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’اس میں نصب جدید سینسنگ سسٹمز، جیسے تھرمل کیمرہ، زوم فیچر اور دن کی روشنی میں کام کرنے والا کیمرہ، اسے ہر موسم اور حالات کے لیے مؤثر بناتے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالرافع نے مزید بتایا کہ ’اس ڈرون کی اعلیٰ درستگی اور برداشت نے مشنز کو کامیابی سے مکمل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ، یہ ڈرون اینٹی جیمنگ اور اینٹی سپوفنگ کی خصوصیات سے بھی لیس ہے، جو دشمن کی ممکنہ مداخلت کو ناکام بناتی اور مشنز کی کامیابی کو یقینی بناتی ہیں۔ 

ایکسپو میں پاکستانی ڈرون بنانے والی کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ ’پاکستان میں پہلی مرتبہ متعارف کروایا گیا ’سرفروش‘ کاماکازی ڈرون مستقبل کی جنگوں میں ایک انقلاب ثابت ہونے والا ہے۔ 

’سرفروش ڈرون کی سب سے اہم خصوصیت اس کی 700 کلومیٹر کی رینج ہے، جو اسے طویل فاصلے پر موثر آپریشن کرنے کے قابل بناتی ہے۔ کمپنی اس رینج کو مزید بڑھانے اور ڈرون کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ 

ایکسپو میں سٹنگرے کمپنی کی تخلیق پاکستان کی پہلی بغیر انسان کے چلنے والی سرفس وہیکل بھی متعارف کروائی گئی۔

کمپنی کے سی ای او محمد احسن ڈار نے بتایا کہ ’حالیہ عالمی اور علاقائی تنازعات میں اَن مینڈ سسٹمز کی اہمیت واضح ہوئی ہے، تاہم یہ بوٹ اَن مینڈ اور اَن ڈیٹیکٹیبل ہے، جو چھوٹے سائز اور مخصوص ڈیزائن کی وجہ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

افغانستان سے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو فوجی آپشن استعمال کرنا پڑے گا: خواجہ آصف

جمعرات نومبر 6 , 2025
Share وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آج استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کے حوالے سے کہا ہے کہ ناکامی کی صورت میں ’فوجی آپشن‘ استعمال کرنا پڑے گا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ پاکستان […]

You May Like