پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پیر کی سہ پہر 16ویں قائدِ ایوان کا انتخاب مکمل ہوا، جس میں فیصل ممتاز راٹھور 36 ووٹ لے کر نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔
53 کے ایوان میں سے نو ارکان اجلاس میں شریک نہ ہوئے، جبکہ 44 حاضر ارکان میں سے فیصل ممتاز راٹھور کے حق میں 36 اور مخالفت میں دو ووٹ ڈالے گئے۔ ان 36 ووٹوں میں پیپلز پارٹی کے 17، مسلم لیگ نون کے نو اور فارورڈ بلاک کے ارکان کے ووٹ شامل تھے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کشمیر نے پورے عمل سے لاتعلقی اختیار کیے رکھی۔
سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تین روز قبل تحریکِ عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔ تحریک منظور ہونے کے بعد سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے آئین کی دفعہ 27 کے تحت نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے خصوصی اجلاس طلب کیا۔
آج صبح سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر کے کارکنان بڑی تعداد میں اسمبلی کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے، جبکہ سہ پہر تین بجے نامزد امیدوار فیصل ممتاز راٹھور پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور فارورڈ بلاک کے ارکانِ اسمبلی کے ہمراہ قانون ساز اسمبلی پہنچے۔ اجلاس مقررہ وقت تین بجے شروع نہ ہو سکا اور تقریباً سوا چار بجے کارروائی کا آغاز ہوا۔
تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد سپیکر نے سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق کو خطاب کی دعوت دی۔ انہوں نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ انہیں متعدد بار قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مشورہ دیا گیا، مگر یہ ایوان ان کا بھی گھر ہے اور وہ اپنے گھر کو نہیں توڑ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ڈھائی سالہ دور میں انہوں نے کوئی بددیانتی نہیں کی اور نظامِ حکومت ایمانداری سے چلایا۔ انہوں نے آنے والے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر تحریکِ عدم اعتماد ان کے خلاف نہ ہوتی اور ووٹ دینے پر پابندی نہ ہوتی تو وہ ضرور انہیں ووٹ دیتے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نئے قائدِ ایوان فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ صرف پیپلز پارٹی کے نہیں بلکہ پوری اسمبلی کے وزیراعظم ہیں، اور ان کی توجہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر مرکوز رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد، سابق وزیراعظم راجہ ممتاز راٹھور کی طرح ایک حقیقی عوامی حکومت قائم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پہلی مرتبہ ہوا کہ جانے والی وزیر اعظم آنے والے وزیر اعظم کو خوش آمدید کہتا ہوا رخصت ہوا، سابق وزیر اعظم کے قلم میں تب حرکت ہوتی تھی جب بھونچال آ جاتا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایکشن کمیٹی ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ہو گا،عوام مسائل کو ضرر حل کرنا ہے لیکن وسائل اندر رہ کر کچھ مسلے حل سکتے تھے جس میں تاخیر ہوئی، اب بطور وزیر اعظم اب میں عہد کرتا ہوں کہ میرے قلم سے تاخیر نہیں ہو گی، لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مراعات یافتہ طبقہ ہیں لیکن ہم سیاست دان ایسے نہیں ہیں۔ میرے والد نے اپنا ایک ہی مکان بنایا دوستوں کے تعاون سے بنایا اور اسے میں نے اپنی الیکشن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فروخت کر دیا، میرے اثاثے آج جو ہیں وہ میرے وزرات عظمی کے بعد بھی دیکھ لیجیے گا۔‘

