غزہ امن فورس کا حصہ بننے کو تیار ہیں اگر مینڈیٹ حماس کو غیر مسلح کرنا نہ ہو: اسحاق ڈار

Share

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن کے قیام کے لیے تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے اگر اس کا مینڈیٹ ’حماس کو غیر مسلح‘ کرنا نہ ہو۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ بات ہفتے کو اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی جس کا مقصد سال 2025 میں سفارتی محاذ پر پاکستان کی کارکردگی اور کوششوں کا جائزہ پیش کرنا تھا۔

پریس بریفنگ کے دوران غزہ میں امن کے قیام کے لیے تعینات کی جانے والی انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے سوال کیا گیا۔

اس سوال کے جواب میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’یہ بڑی حساس چیز ہے۔ اسی لیے ہم نے نیویارک، استنبول اور یہاں بھی امن کے قیام کا لفظ استعمال کرتے رہے ہیں کبھی بھی امن نافذ کرنے کا نہیں کہا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں واضح کر چکا ہوں کہ پاکستان خوشی سے اس کا حصہ بنے گا اگر اس کا مینڈیٹ امن نافذ کرنا (پیس انفورسمنٹ) اور حماس کو غیر مسلح کرنا نہیں ہوگا۔

’یہ فلسطینی انتظامیہ یا ان کی جو حکومت ہو گی ان کا کام ہے۔ ہم انہیں وہاں امن قائم رکھنے کے لیے صرف مدد فراہم کریں گے۔‘

امریکہ کی ثالثی سے طے پانے والے غزہ امن معاہدے کا سب سے اہم جزو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کا قیام ہے، جس میں بنیادی طور پر مسلمان اکثریتی ممالک کی افواج شامل ہوں گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فورس کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا، انسانی امداد کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانا اور غزہ میں انتظامی ڈھانچے کے فوری استحکام میں مدد فراہم کرنا ہے۔

سال 2025 میں سفارتی محاذ پر پاکستان کی کارکردگی اور کوششوں کا جائزہ پیش کرنے کے لیے کی جانے والی اس پریس بریفنگ میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مئی میں انڈیا اور پاکستان کے مابین ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستان کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’چار روزہ کشیدگی کے دوران انڈیا کے علاقائی بالادستی اور نیٹ سکیورٹی فراہم کرنے والا ملک ہونے کے دعوے کا امتحان لیا گیا۔‘

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ’پلوامہ اور پہلگام دونوں واقعات کے بعد پاکستان سفارتی سطح پر متحرک رہا۔‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہی میزائل ٹیکنالوجی کو سالڈ فیول پر منتقل کر لیا تھا اور ملک کو ایک مضبوط عسکری اور میزائل قوت بنایا گیا۔ انہوں نے کہا لیکن ’اب پاکستان کو معاشی قوت بنانے کی ضرورت ہے۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں سعودی عرب اور چین سمیت متعدد ممالک دلچسپی لے رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ’جموں و کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ پاکستان انڈیا تنازع اور پاکستان کی کامیابی کے بعد مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی سطح پر فعال کیا گیا ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پنجاب: پرانے محکموں کے ساتھ نئی اتھارٹیز کی ضرورت کیوں؟

ہفتہ دسمبر 27 , 2025
Share پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے پرانے محکموں کے ساتھ کئی نئی اتھارٹیز بھی بنائی ہیں اور ان اتھارٹیز میں غیر معمولی بھرتیاں جاری ہیں جن کی ایک مثال پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی میں 500 آسامیوں کا اشتہار ہے۔ حکومت کی جانب سے ان کا مقصد عوامی […]

You May Like