خطرات کے مقابلے کے لیے ضروری اقدامات سے دریغ نہیں کریں گے: سعودی کابینہ

Share

سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کو کہا کہ مملکت اپنی قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔

ولی عہد محمد بن سلمان کی صدارت میں منگل کو سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں یمن کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کو درپیش کسی بھی چیلنج کو مسترد کر دیا گیا۔

کابینہ کا یہ اجلاس منگل کی صبح یمن کے بندرگاہ مکلا میں ایک ’محدود فضائی حملے‘ کے بعد ہوا جس میں یمن میں سعودی قیادت میں لڑنے والے اتحاد نے علیحدگی پسند فورسز کے لیے متحدہ عرب امارات سے پہنچنے والی ہتھیاروں کی کھیپ کو نشانہ بنایا تھا۔

سعودی کابینہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’وہ اپنی قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خلاف ورزی یا خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات سے دریغ نہیں کرے گا۔‘

کابینہ نے یمن کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری، یمن کی صدارتی قیادت کونسل اور حکومت کی مکمل حمایت کے عزم کو بھی دہرایا۔

سعودی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یو اے ای یمن میں جنوبی علیحدگی پسند فورسز یا کسی اور پارٹی کو فوجی یا مالی مدد دینا بند کر دے گا اور اماراتی فورسز یمنی درخواست کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے واپس چلی جائیں گی۔

کابینہ نے کہا کہ اسے امید ہے کہ یو اے ای سعودی،اماراتی تعلقات کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا جنہیں مملکت مضبوط کرنے کی خواہاں ہے اور ’وہ خطے کے ممالک کی خوشحالی اور استحکام کو بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کی منتظر ہے۔‘

کابینہ نے حضرموت اور المہرہ کے گورنریٹس میں شہریوں کی حفاظت میں اتحاد کے کردار کی تعریف کی۔

دیگر علاقائی امور میں، کابینہ نے صومالیہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے مملکت کی حمایت کا اعادہ کیا، اور اسرائیل اور صومالی لینڈ کے درمیان باہمی شناخت کے اعلان کو مسترد کر دیا کیونکہ یہ یکطرفہ علیحدگی پسند اقدامات کو قانونی حیثیت دیتا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ دو بحری جہاز مکلا کی بندرگاہ میں طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہوئے اور ٹریکنگ اور شناختی ڈیوائس کو بند کر دیا، کیونکہ وہ یمنی حکومت یا اتحادی قیادت کی اجازت کے بغیر داخل ہوئے تھے۔

یو اے ای کی وزارت نے منگل ہی کو ایک بیان کہا تھا کہ نشانہ بننے والی کھیپ میں کوئی ہتھیار نہیں تھا اور یہ کہ جو گاڑیاں اتاری گئی تھیں وہ کسی یمنی فریق کے لیے نہیں، بلکہ یمن میں کام کرنے والی متحدہ عرب امارات کی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔

سعودی عرب نے یمن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی پیش قدمی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے یو اے ای اقدامات کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا تھا۔ 

منگل کو ’ایکس‘ پر اپنے نئے اکاؤنٹ پر وضاحتی پوسٹس کی ایک سیریز میں ترکی المالکی نے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بیان کے جواب میں کہا کہ ’دو بحری جہازوں کے داخلے کے دوران، مکلا کی بندرگاہ کو بند کر دیا گیا تھا اور تمام مقامی کارکنوں اور ملازمین کو نکال لیا گیا تھا، اور یہ واضح ہو گیا تھا کہ جہازوں میں 80 گاڑیاں لدی ہوئی تھیں‘ اور اسلحہ و گولہ بارود بھی تھا

انہوں نے مزید کہا کہ اس کھیپ کی آمد اور اسے بندرگاہ پر اتارنے کے ثبوت حاصل کرنے کے بعد  ’متحدہ عرب امارات میں اعلیٰ سطحی حکام کو مطلع کیا گیا کہ وہ اس (عسکری) مدد کو مکلا کی بندرگاہ سے نکلنے سے روکیں تاکہ اسے تنازعہ والے علاقوں میں جانے سے روکا جا سکے۔‘

المالکی نے کہا کہ ’امارتی فریق کو مطلع‘ کرنے کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

غزہ، کشمیر میں امن: دو کشمیری اساتذہ کا لاہور تک پیدل امن مارچ

بدھ دسمبر 31 , 2025
Share مظفر آباد کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو اساتذہ راجہ وقار اور راجہ غضنفر افتخار شدید سرد موسم میں 420 کلومیٹر کا پیدل سفر طے کر کے لاہور پہنچے ہیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکیں کہ انسانی حقوق کی پامالی اور بدامنی کس طرح دردِ دل رکھنے والوں کو […]

You May Like