|
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کا سیز فائر جاری۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔ ثالثی کی کوششیں جاری۔ لبنان اور اسرائیل بھی آج سے 10 روزہ جنگ بندی پر متفق لائیو اپ ڈیٹس |
ایران کے ساتھ اسلام آباد میں معاہدہ ہوتا ہے تو ہو سکتا میں جاؤں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ اگر اسلام آباد میں ایران سے معاہدہ ہو جاتا ہے اور اس پر دستخط ہو جاتے ہیں تو وہ جا سکتے ہیں اور ایران تقریباً ہر چیز پر راضی ہو چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم کی سپلائی حوالے کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی صدر نے کہا ہے کہ ’ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں، میں آپ کو بتا سکتا ہوں، ہو سکتا ہے کہ یہ اس سے پہلے ہو جائے، مجھے یقین نہیں ہے کہ اس (جنگ بندی) میں توسیع کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایران ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور ہم ان کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے نمٹ رہے ہیں۔‘
’وہ کہتے ہیں ہمارے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہئے، یہ ایک بڑا عنصر ہے، اور وہ آج وہ کام کرنے پر راضی ہیں جو وہ دو مہینے پہلے کرنے کو تیار نہیں تھے۔‘
جنگ بندی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی حملہ، 7 اموات: لبنانی وزات صحت
لبنان کی وزارے صحت نے جمعرات کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ 10 روزہ جنگ بندی کا نفاذ شروع ہونے سے محض چند گھنٹے قبل ملک کے جنوبی قصبے غازیہ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم سات افراد جان سے چلے گئے اور 33 زخمی ہوئے۔
لبنان کے سرکاری میڈیا نے قصبے میں ’شہریوں کے خلاف قتل عام‘ کی اطلاع دی، جس میں کہا گیا کہ ملبہ ہٹانے کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ وزارت صحت نے کہا کہ اس کی تعداد ’ابتدائی اور حتمی نہیں‘ ہے۔
اسرائیل ہم پر حملے بند کرے تو جنگ بندی کا احترام کریں گے: حزب اللہ
حزب اللہ کے قانون ساز ابراہیم الموسوی نے جمعرات کو کہا ہے کہ اگر اسرائیل لبنانی گروپ پر حملے بند کرتا ہے تو وہ اسرائیل کے ساتھ ملک کی جنگ بندی کا احترام کریں گے۔
انہوں نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم حزب اللہ میں جنگ بندی کی احتیاط سے اس شرط پر عمل کریں گے کہ یہ ہمارے خلاف دشمنی کو ایک جامع روک دے اور اسرائیل اسے کسی بھی قتل کے لیے استعمال نہ کرے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم لبنان کے حق میں دباؤ ڈالنے پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں،‘
مزید کہا کہ ’ایران جنگ بندی کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے برابر سمجھے بغیر جنگ بندی نہیں ہو سکتی تھی۔‘
اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو اور لبنانی ہم منصب جوزف عون سے بات کرنے کے بعد کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے جمعرات کو 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر لبنان کی حزب اللہ تحریک کا ذکر کیے بغیر کہا، ’ان دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ اپنے ملکوں کے درمیان امن کے حصول کے لیے، وہ باضابطہ طور پر شام 5 بجے 10 دن کی جنگ بندی کا آغاز کریں گے۔‘
ٹرمپ نے کہا، ’ان دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اپنے ممالک کے درمیان امن کے حصول کے لیے، وہ باضابطہ طور پر شام 5 بجے EST سے 10 دن کی جنگ بندی کا آغاز کریں گے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور اعلیٰ امریکی فوجی افسر ڈین کین کو ہدایت کی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں۔
28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کتنے والے ٹرمپ نے کہا کہ ’دنیا بھر میں 9 جنگوں کو حل کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، اور یہ میری 10ویں جنگ ہوگی، تو آئیے، اسے مکمل کریں!‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا کے کمانڈر سے ملاقات کی: ارنا
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات کو ایران کے خاتم الانبیا سنٹرل ملٹری ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر سے ملاقات کی اور انہیں جنگ کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کی ہے۔
لبنانی صدر کا دیرپا امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا شکریہ
لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’دیرپا امن اور استحکام‘ کے لیے ان کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان فون کال کے بعد ان کے دفتر نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’وہ جلد از جلد آگ کو روکنے کے لیے ان کوششوں کے جاری رہنے کی خواہش کرتے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ٹرمپ نے صدر عون اور لبنان کی حمایت کے ساتھ جواب دیا، اور جلد از جلد جنگ بندی کی لبنانی درخواست کو پورا کرنے کے اپنے عزم پر زور دیا۔‘
تم اتصال هاتفي بعد ظهر اليوم بين الرئيس الاميركي دونالد ترامب والرئيس اللبناني جوزاف عون جدد خلاله الرئيس عون شكره للجهود التي يبذلها ترامب من اجل التوصل إلى وقف إطلاق نار في لبنان وتامين السلم والاستقرار بشكل دائم تمهيدا لتحقيق العملية السلمية في المنطقة وتمنى عليه استمرار هذه…
— Lebanese Presidency (@LBpresidency) April 16, 202
اس وقت ترجیح امریکہ، ایران کو مذاکرات کی طرف دھکیلنا ہے: چینی وزیر خارجہ
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ اس وقت ترجیح امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی طرف دھکیلنا ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے بیجنگ میں اپنے اطالوی ہم منصب انتونیو تاجانی سے ملاقات کے دوران طویل تنازعہ کے بین الاقوامی توانائی کی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستوں کی سلامتی پر پڑنے والے سنگین اثرات کا حوالہ دیتے ہوئےیہ بات کہی۔
چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے اجلاس کے خلاصے کے مطابق، چین بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر اٹلی کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
وانگ نے دونوں ممالک کو ’قدیم تہذیبیں جو امن کی قدر کرتی ہیں‘ قرار دیا۔ روئٹرز
’یہ تب تک نہیں ہوتا جب تک یہ ہو نہ جائے‘: پاکستانی وزیر خزانہ
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت ’اس پر‘ لگی ہے۔
انہوں نے فاکس بزنس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’جیسا کہ میں نے کہا، ہماری قیادت اس پر ہے، اور میں نے کہا کہ ہم نے ہر اس شخص کا شکریہ ادا کیا جس نے ہماری قیادت کو اس کشتی کو آگے لے جانے اور اسے فنشنگ لائن پر لے جانے میں مدد دی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کسی اور سے بہتر ہے، کہ یہ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ نہ ہو جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک نہیں ہے جو اس جنگ سے متاثر ہوا ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ’کیونکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، یہاں تک کہ اگر مکمل امن ہو جاتا ہے، تو بھی اسے معمول پر آنے میں ہفتوں، مہینوں، یا سال بھی لگ سکتے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج لبنان میں جنگ بندی کی تیاری کر رہی ہے: میڈیا رپورٹ
اسرائیلی اخبار روزنامہ ہاریٹز نے جمعرات کو فوجی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں جنگ بندی کی تیاری کر رہی ہے، جس کا آغاز مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے (9 بجے پاکستانی وقت) سے ہوگا۔
اعلیٰ درجے کے کمانڈروں کو جنوبی لبنان میں اس وقت تعینات فورسز کو جنگ بندی کے لیے تیار کرنے کی ہدایات موصول ہوئی ہیں، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ شام 7 بجے سے آدھی رات کے درمیان ہو گی۔
امن معاہدہ نہ ہوا تو مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کے لیے تیار ہیں: امریکی وزیر جنگ
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اگر ایران امن معاہدے پر راضی نہیں ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پینٹاگون میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے ایران کی عسکری قیادت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں، ہماری صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہیں، یہ کوئی منصفانہ لڑائی نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جب آپ اپنے لانچروں کو کھود رہے ہیں، ہم صرف مضبوط ہو رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ چیزوں کو ادھر ادھر منتقل کر سکتے ہیں لیکن آپ حقیقت میں دوبارہ تعمیر نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم کر سکتے ہیں، ہم پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ دوبارہ لوڈ کر رہے ہیں، ہم بہت مضبوط ہیں۔‘
امریکی وزیر جنگ نے مزید کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا باہر جانے سے تمام جہاز رانی کو ’جتنا وقت لگے گا‘ روک دے گا۔
اس موقعے پر امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈر جنرل ڈین کین نے کہا، ’مجھے واضح کرنے دیں، یہ ناکہ بندی تمام بحری جہازوں پر لاگو ہوتی ہے، خواہ وہ کسی بھی قومیت سے ہو، ایرانی بندرگاہوں کے اندر یا باہر جانے والے۔‘
جنرل ڈین کین نے بتایا ہے کہ امریکہ ایران کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی بحری جہاز کا پیچھا کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے علاقائی سمندروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پانیوں میں بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی سپیکر سے ملاقات
ایران کے سرکاری ٹی وی نے جمعرات کو بتایا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔
سپیکر باقر قالیباف نے گذشتہ ہفتے پاکستان میں ہونے والی پہلی امریکہ ایران میٹنگ میں تہران کے وفد کی قیادت کی تھی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کی قرارداد
امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے بدھ کو پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی چھ شقیں پیش کرتے ہوئے ان پر کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر جنگ مسلط کرنے سمیت ’سنگین جرائم اور بدعملیوں‘ کا الزام لگایا ہے۔
ایریزونا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک رکن کانگریس یاسمین انصاری مواخذے کی اس قرارداد کی قیادت کر رہی ہیں جس کے ایوان میں ریپبلکن اکثریت کی وجہ سے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں۔
مواخذہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے امریکی ایوان نمائندگان کسی حکومتی عہدیدار پر مبینہ غلط کاموں کی بنیاد پر الزامات عائد کرتا ہے، اور انہیں عہدے سے ہٹانا صرف اسی صورت ممکن ہوتا ہے جب سینیٹ مقدمے کے بعد انہیں مجرم قرار دے۔
یاسمین انصاری نے ایکس پر لکھا، ’میں نے پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف اپنے حلف کی پاسداری نہ کرنے، امریکی فوجیوں کی جان خطرے میں ڈالنے، اور جنگی جرائم کے ارتکاب پر مواخذے کی شقیں پیش کی ہیں جن میں شہریوں اور ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر حملے شامل ہیں۔
’صرف کانگریس جنگ کا اعلان کر سکتی ہے، ان کے اقدامات کا تقاضا ہے کہ انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے۔‘
پاکستان کو سعودی عرب سے دو ارب ڈالر موصول
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو بتایا ہے کہ اسے سعودی عرب سے دو ارب ڈالر کا فنڈ موصول ہو گیا ہے۔
پاکستان کے مرکزی بینک نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’سٹیٹ بینک کو سعودی عرب کی وزارت خزانہ کی جانب سے دو ارب ڈالر کے فنڈ موصول ہو گئے ہیں۔‘
لبنان اور اسرائیل کے رہنما آج بات چیت کریں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات جمعرات کو ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا کہ ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان قدرے سانس لینے کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ دونوں رہنماؤں کو آپس میں بات کیے ہوئے ایک طویل عرصہ ہو گیا ہے، تقریباً 34 سال۔ یہ کل ہو گا۔ بہت خوب۔ صدر ڈی جے ٹی۔‘
امریکہ کا ایرانی تیل پر پابندیاں سخت کرنے کا اعلان
امریکہ نے بدھ اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی تیل کی صنعت پر پابندیاں سخت کر رہا ہے جب کہ تہران نے مشرق وسطی کی جنگ کے حصے کے طور پر آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نئی سزا میں ایرانی تیل کی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے تحت پٹرولیم شپنگ کے بڑے تاجر محمد حسین شمخانی کے نیٹ ورک میں کام کرنے والے دو درجن سے زائد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف مالی دباؤ کی مہم کا اشارہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا، ’محکمہ خزانہ شمخانی خاندان جیسی حکومتی اشرافیہ کو نشانہ بنا کر ’معاشی اشتعال‘ کے ساتھ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے جو ایرانی عوام کی قیمت پر منافع کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
امریکی سینٹ کی اسرائیل کو فوجی سامان فروخت کرنے کی حمایت
امریکی سینیٹ نے بدھ کو ان دو قراردادوں کو روک دیا ہے جن کے ذریعے اسرائیل کو تقریباً ساڑھے 45 کروڑ ڈالر مالیت کے بموں اور بلڈوزروں کی فروخت روکی جا سکتی تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حامی رپبلکن پارٹی نے یہودی ریاست کی حمایت کا اظہار کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
روئٹرز کے مطابق 47 رکنی سینیٹ ڈیموکریٹک کاکس کی بڑی اکثریت کی جانب سے قراردادوں کی حمایت نے اس جماعت کے اندر غزہ، لبنان اور ایران پر اسرائیلی حملوں کے شہریوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کو اجاگر کیا۔
امریکی کانگریس میں اسرائیل کی دو جماعتی مضبوط حمایت کی کئی دہائیوں پرانی روایت کا مطلب ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قراردادوں کے منظور ہونے کا امکان نہیں ہے، لیکن حامیوں کو امید ہے کہ اس مسئلے کو اٹھانے سے اسرائیل کی حکومت اور امریکی انتظامیہ شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے پر آمادہ ہوں گی۔
اسرائیل کو اسلحے کی فروخت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک اہم اتحادی ہے جسے امریکہ کو فوجی سازوسامان فروخت کرنا چاہیے۔
ڈیموکریٹس کے ساتھ منسلک آزاد امیدوار، ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز نے قراردادوں پر ووٹنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فروخت غیر ملکی امداد کے ایکٹ اور آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ میں غیر ملکی امداد کے معیار کی خلاف ورزی ہے۔
48 گھنٹے میں 10 ایرانی بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا: امریکی فوج
اے ایف پی کے مطابق امریکی فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے کامیابی کے ساتھ 10 بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا ہے جنہوں نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے پہلے 48 گھنٹے کے دوران ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے کی کوشش کی۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’پیر کو امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 10 بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا ہے اور صفر بحری جہاز گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘
سینٹ کام نے اس سے قبل واپس موڑے گئے بحری جہازوں کی تعداد نو بتائی تھی، لیکن 10 ویں کا اضافہ کیا جس کے بارے میں اس نے کہا کہ اسے امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کے ذریعے ایران کی طرف ’واپس بھیجا گیا‘
ایران فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا: فیفا
بین الاقوامی فٹ بال ایسوسی ایشن فیڈریشن (فیفا) کے صدر گیانی انفینٹینو نے بدھ کو کہا کہ مشرق وسطی کی جنگ کے باوجود ایران 2026 کے ورلڈ کپ میں ’یقینی طور پر‘ شرکت کرے گا۔
انفینٹینو نے نشریاتی ادارے سی این بی سی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران یقینی طور پر آ رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس وقت تک صورت حال پرامن ہو جائے گی، جس سے یقینا مدد ملے گی۔‘
جون میں امریکہ میں شیڈول ٹیم کے آئندہ میچوں کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’لیکن ایران کو آنا ہے، وہ اپنے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، انہوں نے کوالیفائی کیا ہے اور کھلاڑی کھیلنا چاہتے ہیں۔‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کی وجہ سے عالمی ٹورنامنٹ میں ایران کی شرکت شکوک و شبہات کا شکار ہو گئی تھی۔
انفینٹینو کا کہنا تھا کہ ’کھیلوں کو سیاست سے الگ ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر کوئی اور رابطے استوار کرنے اور انہیں جوڑے رکھنے پر یقین نہیں رکھتا، تو ہم یہ کام کر رہے ہیں۔‘
امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا ورلڈ کپ 11 جون سے شروع ہو رہا ہے۔

