اگر دوبارہ امریکی حملہ ہوا تو ایران پوری طاقت سے جواب دے گا: وزیر خارجہ ایران

Share

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو امریکہ کو اب تک کی سب سے براہ راست دھمکی دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے ملک پر دوبارہ حملہ ہوا تو ایران اپنے پاس موجود تمام تر طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا۔

عباس عراقچی نے یہ دھمکی وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں دی۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جن کا ورلڈ اکنامک فورم (ڈیووس) کا دعوت نامہ مظاہرین کی اموات کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا، نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ایشیا سے مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی سازوسامان بھی خطے میں منتقل ہوتا نظر آ رہا ہے، جو کہ کیریبین میں بڑی امریکی فوجی تعیناتی اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد کی صورتحال کا تسلسل ہے۔

عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ بدامنی کا متشدد مرحلہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت تک رہا، اور ایک بار پھر تشدد کا ذمہ دار مسلح مظاہرین کو ٹھہرایا۔

عراقچی نے جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ’جون 2025 میں ایران نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا تھا، اس کے برعکس اب ہماری طاقتور مسلح افواج کو دوبارہ حملے کی صورت میں اپنی پوری قوت کے ساتھ جوابی وار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ یہ دھمکی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے میں واضح طور پر پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں، کیونکہ ایک سفارت کار اور تجربہ کار سپاہی کے طور پر میں جنگ سے نفرت کرتا ہوں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ایک مکمل تصادم انتہائی ہولناک ہوگا اور ان خیالی ٹائم لائنز سے کہیں زیادہ طویل ہوگا جو اسرائیل اور اس کے اتحادی وائٹ ہاؤس کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ یقینی طور پر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور دنیا بھر کے عام لوگوں پر اثر انداز ہوگا۔

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق احتجاج میں اموات کی تعداد کم از کم 4,519 تک پہنچ چکی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی ہفتے کے روز اعتراف کیا کہ احتجاج میں ’کئی ہزار‘ لوگ مارے گئے ہیں۔

اب تک 26,300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ انہیں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

پرامن مظاہرین کا قتل اور قیدیوں کو سزائے موت دینا وہ دو ’ریڈ لائنز‘ ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کشیدگی کے دوران واضح کر رکھی ہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سندھ طاس معاہدے پر انڈیا کا یکطرفہ اقدام آبی سلامتی کے لیے خطرہ: پاکستان

بدھ جنوری 21 , 2026
Share پاکستان نے بدھ کو خبردار کیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے یکطرفہ فیصلے نے ملک کی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک غیر معمولی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے سفیر عثمان جدون نے اس اقدام […]

You May Like