’پاکستان شاندار کام کر رہا ہے‘: افغانستان سے جنگ کے سوال پر ٹرمپ کا جواب

Share

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے جمعے کو اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اسلام آباد ’بہت شاندار کام‘ کر رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں جمعرات کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان کے 300 سے زائد اہلکار جان سے جاچکے ہیں جبکہ 500 سے زائد زخمی ہیں۔ حکام نے افغان طالبان کی سینکڑوں چیک پوسٹوں کو تباہ اور متعدد کو قبضے میں لیے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعے کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے صحافیوں نے سوال کیا گیا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے تو کیا انہوں نے آپ سے مداخلت کی درخواست کی ہے؟ کیا اس حوالے سے کسی نے آپ سے رابطہ کیا ہے؟‘

جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا: ’خیر، میں ایسا کرتا، لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے ہیں، بہت ہی زیادہ اچھے ہیں۔ آپ کے پاس ایک عظیم وزیراعظم (شہباز شریف) ہیں، آپ کے پاس وہاں ایک عظیم جنرل ہیں۔ آپ کے پاس ایک عظیم رہنما ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ وہ دو لوگ ہیں جن کا میں واقعی بہت احترام کرتا ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستان بہت شاندار کام کر رہا ہے۔‘

امریکی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور ایلیسن ایم ہکر نے بھی ’طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت‘ ہے۔

 ہفتے کو اپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے بات کر کے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ لڑائی میں ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت کی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔‘

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ برس اکتوبر سے حالات کشیدہ ہیں، جس میں کمی کے لیے قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم تجارت اور آمدورفت کے کے لیے دونوں ملکوں کی تجارتی گزرگاہیں اس وقت سے بند ہیں۔

حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی اموات کے ردعمل میں پاکستان نے 21 فروری کو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جس کے جواب میں افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔

جمعرات کو افغانستان نے پاکستان میں حملے کیے، جس کے بعد سے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے آپریشن غضب للحق کے تحت سرحد پار اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

پاکستانی کارروائیوں کے بعد جمعے کو افغان طالبان نے کہا کہ ان کے رہنما پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’اسلامی امارت افغانستان ہمیشہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے، اور اب بھی ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔‘

تاہم پاکستان کی جانب سے تاحال افغانستان سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے گفتگو، حملوں کی مذمت

ہفتہ فروری 28 , 2026
Share پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات کی اور ایران پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین علاقائی کشیدگی اور بعد ازاں بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت […]

You May Like