ایران کی نطنز جوہری تنصیب پر حملہ، ’کوئی تابکاری نہیں ہوئی‘

Share

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو 20 دن سے زیادہ ہو چکے ہیں اور یہ اب بھی جاری ہے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس


دن 3 بج کر 25 منٹ

ایران کی نطنز جوہری تنصیب پر حملہ، ’تابکاری نہیں ہوئی‘

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی میزان نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ ایران کی نطنز جوہری تنصیب ایک فضائی حملے کا نشانہ بنی ہے۔ تاہم اس واقعے میں تابکاری کا کوئی اخراج نہیں ہوا۔

ایران کی مرکزی یورینیم افزودگی کی جگہ نطنز امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے پہلے ہفتے میں بھی حملے کا نشانہ بنی تھی اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق وہاں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے بتایا کہ اس حملے سے ’کسی قسم کے تابکاری اثرات‘ کی توقع نہیں۔

یہ جوہری تنصیب تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اس سے قبل جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں اور امریکہ کے حملوں کا بھی نشانہ بن چکی ہے۔ اے پی


دن 11 بج کر 25 منٹ

متنازع جزیروں پر حملے کے سنگین نتائج ہوں گے: ایران کی یو اے ای کو تنبیہ

ایران کی فوج نے ہفتے کو متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین سے خلیج میں واقع متنازع جزیروں پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ جزائر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں جو ایک اہم سٹریٹجک گزرگاہ ہے۔

فوجی بیان کے مطابق: ’ہم متحدہ عرب امارات کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس کی سرزمین سے ایرانی جزائر ابو موسیٰ اور گریٹر تنب کے خلاف مزید کسی جارحیت کا آغاز ہوا تو ایران کی طاقتور مسلح افواج متحدہ عرب امارات کی ریاست رأس الخیمہ کو شدید حملوں کا نشانہ بنائیں گی۔‘

یہ بیان ایران کے فوجی آپریشنل کمانڈ ’خاتم الانبیا‘ کی جانب سے جاری کیا گیا، جسے خبر رساں ادارے تسنیم نے نشر کیا۔


صبح 10 بجے

مشرق وسطیٰ کارروائیاں ’سمیٹنے‘ پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ

امریکہ کے صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو’سمیٹنے‘ پر غور کر رہے ہیں جب کہ امریکہ نے تیل کی فراہمی کے عالمی بحران کو روکنے کے لیے ایرانی تیل کی ترسیل پر عائد پابندیوں میں عارضی طور پر نرمی کر دی ہے۔

 ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ ’اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ رہا ہے جب کہ ہم مشرق وسطی میں اپنی عظیم فوجی کوششوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں۔‘

ان کی یہ پوسٹ اب تک کا سب سے قوی اشارہ تھی کہ وہ 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی کو جلد ختم کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے اس اہم بیان میں کہا کہ ’ہم ایران کی دہشت گرد حکومت کے حوالے سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عظیم فوجی کارروائیوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ہم اپنے اہداف کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: 

(1) ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور اس سے متعلق ہر چیز کو مکمل طور پر ناکارہ بنانا۔
(2) ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو تباہ کرنا۔
(3) ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنا، بشمول فضائی دفاعی نظام۔
(4) ایران کو کبھی بھی جوہری صلاحیت کے قریب نہ آنے دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ امریکہ کسی بھی ایسی صورتحال میں فوری اور بھرپور ردعمل دینے کی پوزیشن میں ہو۔
(5) اپنے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں — جن میں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور دیگر شامل ہیں — کو اعلیٰ ترین سطح پر تحفظ فراہم کرنا۔

’آبنائے ہرمز کی حفاظت اور نگرانی ان دیگر ممالک کو کرنی ہوگی جو اسے استعمال کرتے ہیں — امریکہ نہیں۔ اگر درخواست کی گئی تو ہم ان ممالک کی مدد کریں گے، لیکن ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کے لیے یہ ایک آسان فوجی آپریشن ہوگا۔‘


صبح 09 بج کر 25 منٹ

سعودی عرب نے مزید 22 ڈرونز مار گرائے

سعودی وزارت دفاع نے ہفتے کو بتایا کہ سعودی عرب نے ملک کے مشرق میں 22 ڈرون روکے۔

سعودی وزارت دفاع نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’مشرقی خطے میں 10 ڈرون کو روکا اور تباہ کر دیا گیا۔‘

وزارت نے بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مزید 12 ڈرون مار گرائے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

افغانستان میں آپریشن غضب للحق عارضی طور پر روک دیا گیا ہے: عطا تارڑ

ہفتہ مارچ 21 , 2026
Share وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بدھ کی رات کہا کہ عید الفطر کے پیش نظر اور اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں عسکریت پسندوں اور ان کے حمایتوں کے خلاف آپریشن غضب للحق عارضی طور پر (آج رات سے 23/24 مارچ کی درمیانی رات تک) روک […]

You May Like