یو اے ای کو رقم واپسی، پاکستان نے ’گمراہ کن‘ خبریں مسترد کردیں

Share

پاکستان نے ہفتے کو ان حالیہ گمراہ کن اور بے بنیاد تبصروں کو مسترد کردیا ہے، جو سٹیٹ بینک میں رکھے گئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مالی ذخائر کے حوالے سے گذشتہ روز سامنے آئے تھے۔

عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالر کے قرض کے لیے پاکستان کو متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے اگلے سال ستمبر میں پروگرام کے مکمل ہونے تک سٹیٹ بینک آف پاکستان میں مشترکہ طور پر 12.5 ارب ڈالر ڈپازٹس برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔

یو اے ای کی جانب سے دیا گیا 2 ارب ڈالر کا قرض سٹیٹ بینک میں سیف ڈپازٹ کی صورت میں موجود تھا اور پاکستان اس پر چھ فیصد شرح سود ادا کر رہا تھا۔

گذشتہ روز ذرائع کے حوالے سے میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ متحدہ عرب امارات کے مطالبے پر پاکستان سٹیٹ بینک میں موجود دو ارب ڈالرز واپس کر رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہفتے کو پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اس سارے عمل کو ’معمول کا مالی لین دین‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’اسے کسی اور طرح پیش کرنے کی کوشش غلط اور گمراہ کن ہے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا: ’یہ ذخائر دو طرفہ تجارتی معاہدوں کے تحت رکھے گئے تھے، جو یو اے ای کی پاکستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کے لیے مضبوط حمایت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اسی مناسبت سے باہمی متفقہ شرائط کے تحت حکومت پاکستان سٹیٹ بینک کے ذریعے اب میچور شدہ ذخائر یو اے ای کو واپس کر رہی ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ایک دیرینہ، برادرانہ شراکت داری قائم ہے جو تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور عوامی تعلقات میں اعتماد اور سٹریٹجک تعاون پر مبنی ہے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’پاکستان اس دیرپا تعلق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے تاکہ مشترکہ خوشحال مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایران، امریکہ مذاکرات میں ’پیش رفت‘ نہ ہونے کی خبریں مسترد: پاکستان

پیر اپریل 6 , 2026
Share پاکستان نے ہفتے کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں ’بڑی پیش رفت‘ نہ ہونے سے متعلق اطلاعات کو مسترد کر دیا۔ پاکستان نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ ایسے معاملات پر رپورٹنگ میں ’مناسب احتیاط‘ برتی جائے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران […]

You May Like