افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اب تک مثبت اور تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں اور امید ہے کہ معمولی اختلافات اس عمل کی پیشرفت میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔
امیر خان متقی نے یہ بات کابل میں چین کے سفیر ژاو شینگ کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں دوطرفہ تعاون، علاقائی صورتحال اور چین کے شہر اُرمچی میں جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغان وزارت امور خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد تکل کے مطابق، مولوی امیر خان متقی نے افغانستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے ارمچی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پر چینی حکام کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے سعودی عرب، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا۔
افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ اب تک ہونے والی بات چیت حوصلہ افزا رہی ہے اور توقع ہے کہ معمولی نوعیت کی تشریحات یا اختلافات مذاکرات کے عمل کو متاثر نہیں کریں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس موقع پر چین کے سفیر ژاو شینگ نے ارمچی مذاکرات کے حوالے سے تازہ ترین معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور یہ عمل غیر جانبداری اور تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی، خیر سگالی اور کشیدگی سے پاک تعلقات کو فروغ دیا جائے۔
ملاقات کے اختتام پر مولوی امیر خان متقی نے واضح کیا کہ افغان حکومت کا مؤقف دفاعی نوعیت کا ہے اور اپنے حدود کے تحفظ کو اپنا مسلمہ حق سمجھتی ہے، تاہم باہمی احترام اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر مذاکرات کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے۔

