باجوڑ میں افغان جانب سے مارٹر گولہ مکان پر گرنے سے تین افراد کی موت: پولیس

Share

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پولیس کے مطابق افغانستان کی جانب سے مارٹر گولے شہری آبادی میں مکان پر گرنے سے دو خواتین اور ایک بچہ افراد جان سے گئے جبکہ ایک بچی زخمی ہے۔

باجوڑ پولیس کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ مارٹر گولے زاہد نامی شخص کے مکان پر جا گرے، جو سرحد کے قریب لغڑئی کے علاقے میں واقع ہے۔

اہلکار نے بتایا: ’سرحد پر جھڑپوں کی وجہ سے افغانستان کی جانب سے مارٹر گولے فائر کیے گئے، جو شہری آبادی پر گرے، جس سے ایک ہی خاندان کے تین افراد جان سے گئے ہیں۔‘

اہلکار نے بتایا کہ اسی مکان پر گذشتہ رمضان میں بھی مارٹر گولہ گرا تھا اور اس واقعے میں بھی دو افراد جان سے گئے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ مہینے سرحدی جھڑپیں شروع ہوئی تھیں، جن کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر فضائی حملے بھی کیے۔

اسلام آباد افغان طالبان حکومت پر پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

چین، جس کی مغربی سرحد پاکستان اور افغانستان سے لگتی ہے، دونوں ہمسایوں کے درمیان آج کل ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔

سرکاری میڈیا پاکستان ٹیلی ویژن نے حالیہ حملے سے متعلق سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’بھارتی حمایت یافتہ افغان طالبان نے باجوڑ کے سرحدی علاقے کٹ کوٹ کے گاؤں ملک شاہین میں سول آبادی پر بلا اشتعال جارحیت کی‘، جس کے نتیجے میں ایک ہی مکان سے خاتون اور 2 بچوں سمیت 3 افراد جان سے گئے جبکہ اتنی ہی تعداد میں شدید زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کی غرض سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پی ٹی وی نے تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ ’افغان طالبان کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں داخل کروانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن پاکستانی فوج کی بروقت کارروائی کی وجہ سے فتنہ الخوارج کی در اندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔‘

مزید کہا گیا کہ ’اس ناکامی سے مایوس افغان طالبان نے آج (بدھ کو) کٹ کوٹ میں پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنا ڈالا۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’پاکستان فوج نے فوری جوابی کارروائی میں افغانستان سے فائر کرنے والی گن پوزیشن کو مکمل تباہ کردیا۔‘

مزید کہا گیا کہ ’پاکستان فوج کی کارروائی میں باجوڑ سے ملحقہ تمام افغان طالبان پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے افغان طالبان کا بھاری جانی نقصان ہوا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’عوام کے جان و مال کے تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سکیورٹی فورسز ہمہ وقت چوکس اور پرعزم ہیں‘ اور ’افغان طالبان کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانا ان کے مذموم عزائم اور بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔‘

تاحال افغان طالبان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ادھر افغانستان کے وزیر امور خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کابل میں سعودی عرب کے سفیر فیصل طلق البقمی سے ملاقات کی، جس میں علاقائی صورت حال اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

باختر ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کی خبرنامہ میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات کے دوران چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے مذاکرات اور خطے کی تازہ پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔

وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تکنیکی نوعیت کے معمولی مسائل اس عمل کی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

انہوں نے افغانستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

سعودی سفیر نے بھی اس موقع پر کہا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام، سکیورٹی اور اقتصادی ترقی ان کے ملک کے لیے اہمیت رکھتی ہے، اور ریاض ان شعبوں میں کابل کی حمایت جاری رکھے گا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستانی زبردست اور واحد ثالث ہیں: وائٹ ہاؤس

جمعرات اپریل 16 , 2026
Share امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر جاری۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔ امریکی فوج کا ایران کی سمندر میں تجارت کو مکمل بند کرنے کا دعویٰ۔ لائیو اپ ڈیٹس ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کا اسلام آباد میں […]

You May Like