لائیو اپ ڈیٹس |
مذاکرات اور معاہدے کا خیر مقدم لیکن محاصرہ اور دھمکیاں مذاکرات میں رکاوٹ ہیں: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو کہا ہے کہ تہران نے ’ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور کرتا رہے گا، لیکن بد نیتی، محاصرہ اور دھمکیاں حقیقی مذاکرات کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔‘
ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’دنیا آپ کی منافقانہ کھوکھلی باتوں اور آپ کے دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد کا مشاہدہ کر رہی ہے۔‘
ایران نے میری درخواست کا احترام کرتے ہوئے آٹھ خواتین مظاہرین کی پھانسی روک دی: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ’اچھی خبر‘ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ان کی درخواست پر کا احترام کرتے ہوئے آٹھ خواتین مظاہرین کی پھانسی پر عملدرآمد روک دیا ہے۔
اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر انہوں نے لکھا: ’بہت اچھی خبر! مجھے ابھی اطلاع دی گئی ہے کہ ایران میں آج رات جن آٹھ خواتین مظاہرین کو سزائے موت دی جانی تھی، انہیں اب قتل نہیں کیا جائے گا۔‘
بقول صدر ٹرمپ ان میں سے ’چار کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا اور چار کو ایک ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’میں اس بات کی بہت قدر کرتا ہوں کہ ایران اور اس کی قیادت نے، ریاست ہائے متحدہ کے صدر کے طور پر میری درخواست کا احترام کیا اور مجوزہ پھانسیوں کو روک دیا۔‘
مکمل جنگ بندی تب معنی رکھتی ہے جب سمندری ناکہ بندی نہ ہو: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے بدھ کو کہا ہے کہ ’مکمل جنگ بندی اسی صورت میں معنی رکھتی ہے جب اسے سمندری ناکہ بندی اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے جیسے اقدامات سے پامال نہ کیا جائے اور جب تمام محاذوں پر صہیونی جنگی اشتعال انگیزی کو روکا جائے۔‘
بقول قالیباف: ’ایسی کھلی خلاف ورزی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ناممکن ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ’انہوں نے اپنی فوجی جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کیے اور نہ ہی وہ دھونس کے ذریعے کامیاب ہوں گے۔ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔‘
جمعے کو امن مذاکرات کی خبروں میں صداقت ’ممکن‘: ٹرمپ کا نیویارک پوسٹ کو جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے بدھ کو اخبار ’دی پوسٹ‘ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات کے بارے میں ’اچھی خبر‘ ممکنہ طور پر جمعے تک سامنے آ سکتی ہے۔
اسلام آباد میں موجود ذرائع نے تہران کے ساتھ مثبت ثالثی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے اگلے ’36 سے 72 گھنٹوں‘ کے اندر مزید امن مذاکرات کے امکانات کو تازہ کر دیا ہے۔
’دی پوسٹ‘ کی جانب سے اس ممکنہ پیش رفت کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے ٹیکسٹ پیغام میں کہا: ’یہ ممکن ہے! صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ۔‘
یہ پیش رفت اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کریں گے جب تک اس کی منقسم قیادت ایک ’متفقہ تجویز‘ پیش نہیں کر دیتی۔
پاکستانی اور ترک ہم منصب کی گفتگو: تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری کی اہمیت کا اعادہ
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بدھ کی شام ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان سے گفتگو میں خطے میں حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
وزارت خارجہ سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے گذشتہ ہفتے کے دوران وزیراعظم اور پاکستانی وفد کے لیے ترکی کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقعے پر منعقد ہونے والے R-4 کے تیسرے اجلاس کی میزبانی پر بھی ترک حکومت کا شکریہ ادا کیا، جس میں ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی تھی۔
ایرانی افواج نے تین کنٹینر جہازوں کو نشانہ بنایا: رپورٹس
عالمی سکیورٹی مانیٹرز اور پاسدارانِ انقلاب نے بتایا ہے کہ ایرانی افواج نے بدھ کو تین کنٹینر جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں سے دو کو قبضے میں لے لیا گیا اور تیسرے پر فائرنگ کی گئی۔
برطانوی بحری سلامتی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ بدھ کو عمان کے ساحل کے قریب ایک ایرانی گن بوٹ نے ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کی، جبکہ ایران کے قریب ایک اور جہاز پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے علیحدہ طور پر کہا کہ اس کی بحری افواج نے دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے روکا اور انہیں ایرانی پانیوں کی طرف موڑ دیا۔
پاسداران انقلاب نے ان پر اس راستے کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران نافذ کی گئی تھی۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے کہا: ’ایک کنٹینر جہاز کے کپتان نے اطلاع دی کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی گن بوٹ نے جہاز کے قریب آ کر اس پر فائرنگ کی، جس سے برج کو شدید نقصان پہنچا۔ آگ لگنے یا ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔‘
مزید کہا گیا کہ یہ واقعہ عمان سے 15 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا اور تمام عملہ محفوظ رہا۔
برطانوی بحری سلامتی فرم وینگارڈ ٹیک کے مطابق یہ جہاز لائبیریا کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور ’اسے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کہا کہ جہاز نے ’ایران کی مسلح افواج کی وارننگز کو نظرانداز کیا۔‘
پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس کی بحری فورس نے ’آج صبح آبنائے ہرمز میں دو خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی نشاندہی کر کے انہیں روک لیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ان جہازوں کو ’پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے قبضے میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا۔‘
ایرانی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسداران انقلاب نے قبضے میں لیے گئے دو جہازوں کے نام ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس بتائے۔
اس نے دعویٰ کیا کہ فرانسسکا کا اسرائیل سے تعلق تھا جبکہ ایپامینونڈاس کے پاس ’ضروری اجازت نامے نہیں تھے‘ اور وہ ’نیوی گیشن نظام میں رد و بدل کر رہا تھا۔‘
جہازوں کی نگرانی کرنے والے پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق دونوں جہا، جو کنٹینر شپ ہیں، بدھ کو ایرانی ساحل کے قریب رکے ہوئے تھے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ایک علیحدہ واقعے میں ایران کے مغرب میں آٹھ ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک کارگو جہاز پر فائرنگ کی گئی اور اسے پانی میں روک دیا گیا۔
یو کے ایم ٹی او نے کہا: ’ایک روانہ ہونے والے کارگو جہاز کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ اس پر فائرنگ کی گئی اور اب وہ پانی میں رکا ہوا ہے۔ عملہ محفوظ ہے اور تمام افراد موجود ہیں۔ جہاز کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں۔‘
برطانوی بحری سلامتی فرم وینگارڈ ٹیک کے مطابق یہ پاناما کے پرچم تلے چلنے والا کنٹینر جہاز یوفوریا تھا، جو ’آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کر رہا تھا۔‘
بعد ازاں میرین ٹریفک نے دکھایا کہ یوفوریا آبنائے سے نکل چکا تھا اور سعودی عرب کے شہر جدہ کی جانب جا رہا تھا۔
اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے سٹریٹجک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ امریکی فوج ایرانی بندرگاہوں کے خلاف جوابی ناکہ بندی نافذ کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی، جو پہلی بار 8 اپریل کو نافذ ہوئی تھی۔
سیزفائر ڈیڈلائن کی توسیع کے لیے رابطے جاری ہیں: لبنانی صدر
لبنان کے صدر نے بدھ کو ایکس پر اپنے آفیشل اکاونٹ میں کہا ہے کہ ’جنگ بندی کی آخری تاریخ میں توسیع کے لیے رابطے جاری ہیں، اور میں ان غیر معمولی حالات کو ختم کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا جن کا لبنان اس وقت سامنا کر رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کی خودمختاری کو محفوظ رکھنا میری اولین ترجیح ہے۔ ’مذاکرات کی تیاری اسرائیلی جارحیت کو مکمل طور پر روکنے، لبنانی علاقوں سے اسرائیلی انخلا، قیدیوں کی واپسی، بین الاقوامی سرحدوں پر فوج کی تعیناتی اور اس جنگ کے دوران تباہ ہونے والی چیزوں کی تعمیر نو کے آغاز پر مبنی ہے۔‘
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا دفتر خارجہ کا دورہ، علاقائی صورتحال کا جائزہ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور وزارت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ابھرتی ہوئی عالمی و علاقائی صورتحال اور مستقبل کی بین الاقوامی مصروفیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے خارجہ پالیسی کی ترجیحات پر فعال انداز میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ سفارتی مقاصد کے حصول کے لیے سٹریٹجک دور اندیشی اور نتائج پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں واضح اہداف کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی سفیر کی ملاقات
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کے درمیان بدھ کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔
حکومت پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ پر وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی سفیر کے درمیان ملاقات کی ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔
اس ایکس پوسٹ کے مطابق ایرانی سفیر بدھ کو وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کے لیے پی ایم آفس آئے جہاں دونوں نے خطے کی موجودہ صورت حال اور امن کی کوششوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے علان مشرق وسطیٰ کے لیے ’نازک مرحلہ‘: چین
چین نے بدھ کو خبردار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی خاطر جنگ بندی میں توسیع کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک ’انتہائی نازک مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکون نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’موجودہ علاقائی صورتحال جنگ اور امن کے درمیان ایک نازک مرحلے پر کھڑی ہے۔ سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ ہر ممکن کوشش کی جائے تاکہ دوبارہ لڑائی شروع نہ ہو۔‘
ایران کی آبنائے ہرمز میں کنٹینر جہاز پر فائرنگ
ایران کے نیم فوجی انقلابی گارڈز نے بدھ کو آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کی، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا۔
برطانوی ادارے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق یہ حملہ صبح 7:55 بجے کے قریب آبنائے ہرمز میں ہوا اور ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔
یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ گارڈز کی گن بوٹ نے فائرنگ سے قبل جہاز کو وارننگ نہیں دی۔
ادارے کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی ماحولیاتی نقصان رپورٹ ہوا۔
ایران نے فوری طور پر اس حملے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
جنگ بندی میں توسیع پر امریکی صدر کا شکریہ: شہباز شریف
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’میں ذاتی حیثیت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے خلوص دل سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو مہربانی سے قبول کیا ہے۔
On my personal behalf and on behalf of Field Marshal Syed Asim Munir, I sincerely thank President Trump for graciously accepting our request to extend the ceasefire to allow ongoing diplomatic efforts to take their course.
With the trust and confidence reposed in, Pakistan…
’اعتماد اور بھروسے کے ساتھ تنازعے کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘
شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ ’دونوں فریق جنگ بندی کی پابندی جاری رکھیں گے اور اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات کے دوسرے دور میں تنازعے کے مستقل خاتمے کےلیے جامع ’امن معاہدے‘ پر اتفاق کرسکیں گے۔‘
پاکستان کی درخواست پر ایران سے جنگ بندی میں توسیع کر دی: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے اور وہ ایران کی ایک متفقہ تجویز کے انتظار میں ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ مؤخر ہو گیا ہے جبکہ تہران نے تاحال مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی 22 اپریل کو (پاکستانی وقت کے مطابق) صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہونے جا رہی تھی۔
اس سے قبل ٹرمپ نے پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بج کر نو منٹ پر اپنے ٹروتھ سوشل پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔
امریکی صدر نے لکھا ’ایران کی حکومت شدید طور پر منقسم ہونے کی حقیقت کی بنیاد پر، جو غیر متوقع نہیں اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر، ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف اپنے حملے کو اس وقت تک مؤخر کریں، جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔
’اس لیے میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر دوسرے پہلو سے تیار اور مستعد رہے اور اسی بنا پر میں جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کرتا ہوں جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور مذاکرات کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔‘
ایران سے مذاکرات: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان موخر
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر منگل کی دوپہر واشنگٹن پہنچنے والے تھے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا سکے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے کہا تھا کہ امریکی نائب صدر وینس منگل کی دوپہر تک اجلاسوں میں شرکت کی غرض سے واشنگٹن میں موجود تھے۔
ایک عہدے دار نے اے ایف پی کو 1700 جی ایم ٹی (پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے) کے فوراً بعد بھیجے گئے مختصر بیان میں کہا ’مزید پالیسی اجلاس وائٹ ہاؤس میں ہو رہے ہیں جن میں نائب صدر شرکت کریں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگرچہ عہدے دار نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس کی روانگی منگل کی صبح کے لیے طے تھی۔
ایک سینیئر ایرانی عہدے دار نے منگل کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اگر واشنگٹن دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی ترک کر دے تو ایران پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کر سکتا ہے، تاہم تہران ہتھیار ڈالنے کے مقصد سے ہونے والی بات چیت کو مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثالث پاکستان امریکہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کہ وہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی پرچم بردار کنٹینر جہاز ’ٹوسکا‘ اور اس کے عملے کو رہا کرے، جسے اتوار کو امریکی افواج نے سوار ہو کر قبضے میں لے لیا تھا۔
انہوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اختلافات حل کرنے کے بجائے ’ہر روز نئی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔‘

