سعودی شہزادے خالد بن طلال نے ہفتے کو اپنے بیٹے شہزادہ الولید بن خالد بن طلال کے انتقال کی اطلاع دی ہے، جو گذشتہ تقریباً 20 برس سے کوما میں تھے۔
’سوئے ہوئے شہزادے‘ کے نام سے مشہور شہزادہ الولید کی وفات کی خبر ان کے والد نے ایکس پر دی۔
{يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً، فَادْخُلِي فِي عِبَادِي، وَادْخُلِي جَنَّتِي}
بقلوب مؤمنة بقضاء الله وقدره وببالغ الحزن والأسى ننعى إبننا الغالي
الأمير الوليد بن خالد بن طلال بن عبدالعزيز آل سعود رحمه الله
الذي انتقل… pic.twitter.com/QQBbMWGOOG— خالد بن طلال بن عبد العزيز ( أبو الوليد ) (@allah_cure_dede) July 19, 2025
ان کی نماز جنازہ اتوار کو ریاض میں ادا کی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہزادہ الولید کو 2005 میں لندن میں دوران تعلیم ایک سنگین ٹریفک حادثہ پیش آیا تھا، جس کے بعد وہ کوما میں چلے گئے۔
اس عرصے کے دوران انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا اور کبھی کبھار معمولی جسمانی حرکات دیکھنے میں آئیں مگر وہ کبھی مکمل طور پر ہوش میں نہ آ سکے۔
ان کی حالت نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کی ہمدردی اور دعائیں سمیٹیں۔
ان کے انتقال سے سعودی شاہی خاندان اور عوامی سطح پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

