غزہ: انڈپینڈنٹ عربیہ کی صحافی کا اسرائیلی حملے میں قتل، ادارے کا تحقیقات کا مطالبہ

Share

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے پیر کو بتایا کہ غزہ کے ناصر میڈیکل کمپلیکس پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 15 افراد جان سے گئے، جن میں انڈپینڈنٹ عربیہ کی صحافی مریم ابو دقه بھی شامل ہیں۔

انڈپینڈنٹ عربیہ نے غزہ میں اپنی نامہ نگار کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسرائیل کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک بیان میں انڈپینڈنٹ عربیہ نے کہا کہ ’رنج و غم کے ساتھ انڈپینڈنٹ عربیہ اپنی نمائندہ اور صحافی ساتھی مريم ابو دقه کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، جو آج بروز پیر، 25 اگست 2025، اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کے الناصر ہسپتال کمپلیکس کے قریب شہید ہوئیں۔‘

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ پیر کو غزہ کے جنوبی علاقے کے ایک ہسپتال پر اسرائیلی حملوں میں چار صحافیوں سمیت کم از کم 15 افراد کو قتل کر دیا گیا۔

سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسل نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملے خان یونس میں النصر ہسپتال پر کیے گئے۔

ان کے بقول: ’پیر کے حملے میں اموات کی تعداد 15 ہو گئی ہے جن میں چار صحافی اور سول ڈیفنس کا ایک اہلکار شامل ہے۔‘

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملے میں قتل ہونے والے صحافیوں میں مریم کے علاوہ روئٹرز کے فوٹو جرنلسٹ حسام المصری، الجزیرہ کے فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ اور این بی سی کے صحافی معاذ ابو طحہ شامل ہیں۔  

انڈپینڈنٹ عربیہ، جو انڈپینڈنٹ اردو سے منسلک صحافتی ادارہ ہے، نے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا کہ ’مريم ابو دقه پیشہ ورانہ اخلاق، لگن اور مہارت کی اعلیٰ مثال تھیں اور انڈیپنڈنٹ عربیہ کے لیے تین سال سے زیادہ عرصے تک خدمات انجام دیتی رہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’انہوں نے میدان جنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے، پیشہ ورانہ غیر جانبداری، ایمانداری اور انسانی جذبات کے ساتھ بڑی بڑی مشکلات میں بھی اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم انڈیپنڈنٹ عربیہ میں، اپنی بیٹی اور ساتھی مريم ابو دقه کی اس اسرائیلی جرم میں شہادت پر غمزدہ ہیں اور اس جرم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

صحافتی ادارے نے تمام متعلقہ اداروں سے اس جرم کی مکمل تحقیقات کرنے اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کے ان خطرناک اقدامات کو روکنے کے لیے فوری اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

’ہم مریم کے اہل خانہ اور پیاروں سے تعزیت کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ ان کا پیغام، ان کی قربانی اور ان کی سچائی ہمیشہ زندہ رہے گی۔‘

رواں ماہ قطر کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے دو نامہ نگار، جن میں ایک معروف صحافی اور تین ویڈیو جرنلسٹس شامل ہیں، غزہ شہر میں اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔

یہ حملہ غزہ پر 22 ماہ کی جاری جارحیت میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے تازہ واقعات میں سے ایک ہے۔ میڈیا کی عالمی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی حملوں میں تقریباً 200 میڈیا کارکن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اسرائیلی جارحیت کی ہولناکیوں میں جنم لینے والی ننھی ثنا غذائی قلت سے دم توڑ گئی

پیر اگست 25 , 2025
Share غزہ کی ایک سالہ بچی غذائی قلت کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئی۔ بچی کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بحران بڑھ رہا ہے۔ ثنا منصور اللحم کو جنگ کے بغیر زندگی کا کبھی پتہ […]

You May Like