افغان طالبان نے بگرام ایئربیس واپس نہ کیا تو برا ہو گا: ٹرمپ کی دھمکی

Share

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو افغان طالبان کے زیر انتظام ’بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے کی صورت میں‘ افغانستان کو برے نتائج کی دھمکی دی ہے، تاہم ان نتائج کی وضاحت نہیں کی۔

79 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا کہ ’اگر افغانستان نے بگرام ایئر بیس ان لوگوں کو واپس نہیں دیا، جنہوں نے اسے بنایا تھا یعنی کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ تو اس کے برے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ افغانستان میں بگرام ایئربیس کو ’واپس حاصل کرنے‘ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم اسے واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ویسے یہ ایک چھوٹی بریکنگ نیوز ہو سکتی ہے۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہم وہ اڈہ واپس چاہتے ہیں۔۔۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہ ایک گھنٹے کی دوری پر ہے جہاں سے چین اپنے جوہری ہتھیار بناتا ہے۔‘

دوسری جانب طالبان نے افغانستان میں امریکی فوج کی بگرام ایئربیس واپسی کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔

افغان وزارت خارجہ کے اہلکار ذاکر جلالی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’افغانوں نے تاریخ میں کبھی غیرملکی فوج کی موجودگی قبول نہیں کی اور دوحہ مذاکرات اور معاہدے کے دوران اس امکان کو بھی یکسر مسترد کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان اور امریکہ کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور امریکہ کی افغانستان کے کسی بھی حصے میں فوجی موجودگی کے بغیر باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اقتصادی اور سیاسی تعلقات ہو سکتے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ نے ماضی میں طالبان کی حکومت ختم کر دی، جس کے بعد امریکی قیادت میں شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بگرام، افغانستان کا سب سے بڑا ایئربیس بن گیا جو طالبان کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت جنگی کوشش کا مرکز رہا۔

یہ ایک وسیع وعریض ایئربیس ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر گروپوں نے بار بار الزام عائد کیا ہے کہ بگرام میں امریکی افواج نے قیدیوں کے حوالے سے منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں، خصوصاً واشنگٹن کی ’دہشت گردی کے خلاف‘ مہم کے دوران۔

ٹرمپ اکثر بگرام تک رسائی ختم ہونے پر افسوس کرتے رہے ہیں اور اس کے چین کے قریب واقع ہونے کا ذکر کرتے ہیں، مگر جمعرات کو پہلی بار انہوں نے اعلانیہ طور پر کہا کہ وہ اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔

امریکی اور نیٹو فوجیں جولائی 2021 میں بگرام سے افراتفری کی حالت میں نکل گئی تھیں۔ یہ عمل ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کا حصہ تھا جبکہ طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد سے بارہا ایئر بیس کی کمی پر تنقید کی اور اسے اپنے پیش رو جو بائیڈن کی افغانستان سے انخلا کی کارکردگی سے جوڑا۔

ٹرمپ چین کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بھی شکایت کرتے رہے ہیں۔

ہفتے کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے امریکی صدر سے پوچھا کہ کیا وہ بگرام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے امریکی فوج بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔

جس پر ان کا کہنا تھا: ’ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے، مگر ہم اب افغانستان سے بات کر رہے ہیں، اور ہم اسے واپس چاہتے ہیں اور ہم اسے جلد، فوراً واپس چاہتے ہیں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو آپ جان جائیں گے کہ میں کیا کرنے والا ہوں؟‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

فلسطین اور کشمیر کو حق ملنے تک مستقل امن خواب رہے گا: شہباز شریف

اتوار ستمبر 21 , 2025
Share پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا ہے کہ جب تک فلسطین اور کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردوں کے مطابق حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا، مستقل امن خواب ہی رہے گا۔ وزیراعظم آفس کی طرف سے 21 ستمبر کو عالمی یوم امن کے موقعے پر […]

You May Like