اسلام آباد: علاقائی تعاون پر دو روزہ پاکستان۔افغانستان ڈائیلاگ اختتام پذیر

Share

اسلام آباد میں بدھ کو علاقائی استحکام و تعاون پر پہلا غیرمعمولی پاکستان-افغانستان ڈائیلاگ اختتام پذیر ہو گیا ہے جس میں دونوں ممالک کی 100 سے زائد شخصیات نے شرکت کی۔

دو روزہ ڈائیلاگ کے بعد بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مکالمے میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی، اقتصادی انضمام اور عوامی سطح پر روابط جیسے اہم موضوعات پر غور کیا گیا۔

’اتحاد، اعتماد، علاقائی استحکام اور تعاون کی جانب‘ ڈائیلاگ کے عنوان سے ہونے والی اس کانفرنس کا انعقاد ویمن فار افغانستان (WFA) اور اسلام آباد میں قائم ساؤتھ ایشین سٹریٹیجک سٹیبلٹی انسٹیٹیوٹ (SASSI) کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس میں پالیسی سازوں، سابق سفارت کاروں، سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔ شریک افراد میں 30 افغان شخصیات، 40 اعلیٰ سطح کے سابق پاکستانی حکام اور 11 سینیئر سابق سفارت کار شامل ہیں۔

بعد میں جاری کیے گئے بیان کے مطابق ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ ’پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں کھلے اور دیانت دارانہ مکالمے کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کانفرنس پالیسی، سول سوسائٹی اور اکیڈمیا کی مؤثر آوازوں کو ایک میز پر لا کر پل بنانے کے لیے منعقد کی گئی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویمن فار افغانستان کی صدر فوزیہ کوفی نے مکالمے کے انسانی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’امن صرف تنازع کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ مواقع، انصاف اور تفہیم کی موجودگی کا نام ہے۔ خواتین اور نوجوانوں کو ان بات چیت کا مرکز ہونا چاہیے۔‘

ڈائیلاگ کے اختتام پر دو طرفہ ورکنگ گروپس کے قیام، چھ ماہ بعد فالو اپ کانفرنسز کے انعقاد اور طلبہ، اساتذہ، میڈیا نمائندوں اور فنکاروں کے لیے ایکسچینج پروگرامز کی سہولت کاری کی سفارشات بھی پیش کی گئیں۔

جبکہ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور افغانستان میں امن و استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہیں اور اس مکالمے کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ ’غلط فہمیوں‘ کی روک تھام اور پائیدار اعتماد قائم کیا جا سکے۔

اس ڈائیلاگ کے اختتام پر پیش جانے والی سفارشات:

  • دوطرفہ ورکنگ گروپس کا قیام: تاکہ ماہرین اور حکام بارڈر سکیورٹی، تجارتی سہولت کاری اور ثقافتی تبادلے پر مؤثر تعاون کر سکیں۔
  • ڈائیلاگ کا تسلسل: پیش رفت کے جائزے اور رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر چھ ماہ بعد فالو اپ کانفرنسز اور موضوعاتی ورکشاپس کا انعقاد۔
  • عوامی سطح پر روابط میں اضافہ: طلبہ، ماہرین تعلیم، میڈیا پروفیشنلز اور فنکاروں کے لیے ایکسچینج پروگرامز کی فنڈنگ اور سہولت کاری۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایس 400

بدھ اکتوبر 1 , 2025
Shareپاکستان نے 10مئی کی صبح بھارت پر حملہ شروع کیا‘ ایس 400 اس حملے کا خصوصی ہدف تھا‘ یہ دنیا کا مضبوط ترین ڈیفنس سسٹم ہے‘ روس نے 1993 میں بنایا اور اس وقت چین سمیت بے شمار ملک استعمال کر رہے ہیں‘ بھارت کے پاس اس وقت تین ایس […]

You May Like