ایف بی آر آئندہ مالی سال کا بجٹ نہیں بنائے گا: وزیر خزانہ

Share

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ فیڈرل بیورو آف ریوینیو (ایف بی آر) کی بجائے وزارت خزانہ کا ٹیکس پالیسی آفس بنائے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس بدھ کو سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی صورت حال پر بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ ’ہم اب ٹیکس پالیسی آفس کو فعال کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک ایڈوائزری بورڈ بھی تشکیل دیا جائے گا۔‘

رکن کمیٹی محمد عبدالقادر نے وزیر خزانہ سے سوال کیا کہ ٹیکس ریونیو میں حالیہ شارٹ فال کیسے پورا کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ’دیکھیں اس وقت کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ تاہم ہم درست سمت پر جا رہے ہیں۔‘

چین کی کیپٹل مارکیٹ سے سرمایہ اٹھانے کے لیے پانڈا بانڈ کا اجرا

کمیٹی میں بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ’حکومت اس سال نومبر کے آخر میں ابتدائی طور پر 25 کروڑ ڈالر کا پانڈا بانڈ جاری کرے گی۔ مجموعی طور پر بتدریج ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈ جاری کیے جائیں گے۔‘

چین کی کیپٹل مارکیٹ سے سرمایہ اٹھانے کے لیے جو بانڈ جاری کیا جاتا ہے اس کو پانڈا بانڈ کہتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’چین کے ساتھ پانڈا بانڈ کے حوالے سے پیشرفت تیزی سے جاری ہے۔ صدر پاکستان کچھ دن پہلے چین کا دورہ کر کے آئے ہیں۔ صدر سے قبل وزیراعظم بھی چین سے آئے۔

’ہماری ایک ٹیم بھی گذشتہ ہفتے چین سے واپس آئی ہے۔ پانڈا بانڈ پر دونوں اطراف سے مثبت پیشرفت جاری ہے۔ ورچوئل ایسٹ اتھارٹی کے لیے ہائرنگ مکمل ہو چکی ہے۔‘

یورو بانڈ کی ادائیگی

وزیر خزانہ نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ ’حکومت نے 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کر دی ہے۔

ان کے مطابق ’اپریل 2026 میں 1.3 ارب ڈالر کی اگلی ادائیگی بھی بروقت کی جائے گی۔ یورو بانڈ کی ادائیگی کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان ثمرات کے ذریعے معیشت کو آگے لے کر جائیں گے۔

’یورو بانڈ کی ادائیگیاں پاکستان کے مالی نظم و ضبط کی مضبوطی کی عکاس ہیں۔ اب پاکستان کی معیشت کی سمت درست ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف بی آر کو سیاسی طور پر استعمال کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

سینیٹر محمد عبدالقادر نے کمیٹی میں نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’کاروباری افراد کو خط لکھ کر ہراساں نہ کیا جائے۔ 20 سال سے کروڑوں روپے ٹیکس دے رہے ہیں، اس طرح حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔‘

رکن کمیٹی سینیٹر افنان اللہ نے بھی ایف بی آر پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ’ایف بی آر کسی کے کہنے پر سیاسی بنیاد پر ٹیکس کیس بناتا ہے۔ میرے خلاف دوسری بار جھوٹا کیس تیار کیا گیا ہے۔‘

اس کے بعد اراکین کی جانب سے ایف بی آر کو سیاسی طور پر استعمال کرنے والے افسروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

’آئی ایم ایف کے ساتھ مثبت بات چیت ہو رہی ہے‘

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ فی الحال اضافی ٹیکس اقدمات زیر غور نہیں ہیں۔ جی ڈی پی شرح 11 فیصد پر لانے کا ہدف پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

’آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ابھی تک آئی ایم ایف کے ساتھ جتنی بات ہوئی ہے وہ مثبت رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ’عدالتوں میں کئی ٹیکس مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان مقدمات میں پیش رفت سے ٹیکس وصولیوں کا امکان ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

علی امین کے علیمہ خان پر الزامات: پی ٹی آئی کو کتنا سیاسی نقصان پہنچائیں گے؟

بدھ اکتوبر 1 , 2025
Share خیبر پحتونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈّا پور کا ایک اور ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں اس بار انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان پر پارٹی کو ’تقسیم‘ اور ’ایسٹبلشمنٹ کی سہولت کاری‘ کے الزامات لگائے ہیں۔ علی امین گنڈاپور […]

You May Like