پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہرین سے مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ، کشیدگی برقرار

Share

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ پانچ روز سے جاری کشیدگی کے بعد احتجاج کرنے والی عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے تشکیل کردہ وفد کے درمیان جمعرات کی شام مظفر آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا جبکہ علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں میں سستی بجلی، صحت کی سہولتوں میں بہتری اور سیاست دانوں و بیوکریٹس کو دی جانے والی مراعات کے خاتمے سمیت سیاسی اصلاحات کے مطالبات کیے گئے ہیں۔

ان مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم نو افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق رواں ہفتے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کہہ چکے ہیں کہ مظاہرین کے 90 فیصد مطالبات پورے کیے جا چکے ہیں، جن میں بجلی کے نرخوں میں کمی، مقامی حکومتوں میں اصلاحات اور مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کی واپسی شامل ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ دو مطالبات، جن میں وزرا کی تعداد کو کم کرنا اور کشمیری پناہ گزین کے لیے مخصوص نشستوں کو ختم کرنا شامل ہے، صرف قانون سازی کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔

حکومتی کمیٹی میں شامل وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ایکس پر ایک پیغام میں مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کی۔

اگرچہ بات چیت کا پہلا دور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا، تاہم حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مظفرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت عوامی تحفظات اور احتجاج کو مذاکرات اور قانونی طریقوں سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے پاکستان کے مخالفین فائدہ اٹھا سکیں۔

بقول احسن اقبال: ’خطے کی صورت حال کے پیش نظر بہت سے ایسے عناصر ہیں، جو پاکستان کے داخلی امن و استحکام میں خلل ڈال کر اپنا ایجنڈا اٹھانا چاہیں گے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ پانچ روز سے جاری ان مظاہروں میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم نو افراد کی جان چکی ہے اور کشمیر حکومت کے مطابق 170 سے زائد پولیس اہلکار اور 50 شہری زخمی ہو چکے ہیں، تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ زخمی شہریوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے۔

احتجاج کے سبب خطے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز گذشتہ اتوار سے معطل ہیں اور ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں۔ مظفرآباد میں جمعرات کو مارکیٹیں اور سکول بند رہے، جو اب بھی بدستور بند ہی ہیں۔

مئی 2024 میں اسی طرح کے مظاہروں کی ایک لہر نے اس خطے کو مفلوج کر دیا تھا۔ چھ روزہ ہڑتالوں اور پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم چار افراد کی جان گئی تھی جس کے بعد وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے آٹے اور بجلی پر سبسڈی کے لیے 23 ارب روپے کے پیکج اور اشرافیہ کو دیے گئے مراعات کے جائزے کے لیے ایک عدالتی کمیشن کی منظوری دی تھی۔

جس کے بعد احتجاجی رہنماؤں نے اپنی تحریک کو معطل کر دیا تھا لیکن خبردار کیا تھا کہ اگر اعلان کردہ پیکج پر عملدرآمد نہ ہوا تو ایک بار پھر اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کریں گے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

’غم اور خوشی ایک ساتھ‘: لاہور کے فلڈ ریلیف کیمپ میں شادی

جمعہ اکتوبر 3 , 2025
Share پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے چوہنگ میں قائم سیلاب متاثرین کے کیمپ میں بدھ کو ایک شادی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں کیمپ میں مقیم علی رضا، طیبہ ریاض کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ دونوں خاندانوں نے کیمپ میں رہائش کے دوران ہی یہ رشتہ طے کیا […]

You May Like