امریکہ کو پسنی میں بندرگاہ دینے کی پیشکش نہیں ہوئی: پاکستانی سرکاری میڈیا

Share

سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹی وی نے اتوار کو سینیئر سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد نے امریکہ کو پسنی بندرگاہ تک مجوزہ رسائی کی کوئی پیشکش نہیں کی۔

پاکستان ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا اور اس تجویز سے متعلق بات چیت ’صرف ابتدائی نوعیت کی‘ تھی۔

یہ وضاحت اس ہفتے فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشیروں نے امریکی حکام سے بحرہ عرب پر بندرگاہ کی تعمیر اور انتظام سے متعلق ایک تجویز پر بات کی تھی۔ 

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں امریکی سرمایہ کاروں کے لیے بلوچستان کے ضلع گوادر میں واقع جنوبی مغربی قصبے پسنی میں ایک بندرگاہ کے قیام اور انتظام کی تجویز دی گئی تھی تاکہ پاکستان کے قیمتی معدنی وسائل تک رسائی کو آسان بنایا جا سکے۔

ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر پاکستان ٹی وی کو بتایا کہ یہ رپورٹ حکومت یا فوج کی باضابطہ پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا ’نجی کمپنیوں سے بات چیت محض ابتدائی نوعیت کی تھی، کوئی سرکاری اقدام نہیں تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پسنی کی سکیورٹی کسی غیر ملکی طاقت کے حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ فیلڈ مارشل کے پاس کسی بھی حیثیت میں مشیر نہیں۔ ان خیالات کو براہِ راست ان سے جوڑنا گمراہ کن اور غلط ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ فیلڈ مارشل کو ایسے کسی مجوزہ منصوبے سے براہِ راست جوڑنا درست نہیں۔

تقریباً 70 ہزار آبادی پر مشتمل پسنی ایک چھوٹا ماہی گیری کا قصبہ ہے، جسے اس کے قدرتی گہرے پانیوں کی وجہ سے طویل عرصے سے بندرگاہ کی تعمیر کے لیے موزوں مقام کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

اہلکار نے مزید کہا ’پسنی کی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی سیاست میں اہم بنا سکتی ہے، لیکن فی الحال یہ صرف ایک خیال ہے، کوئی عملی منصوبہ نہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی محکمہ خارجہ، وائٹ ہاؤس، اور پاکستان کی فوج یا وزارتِ خارجہ نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پاکستان ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پسنی بندرگاہ کی تجویز ممکنہ طور پر نجی حلقوں کی جانب سے سامنے آئی تھی لیکن اسے کبھی سرکاری چینلز کے ذریعے نہیں بھیجا گیا اور نہ ہی کسی سٹریٹیجک سطح پر اس کا جائزہ لیا گیا۔ 

تاہم فنانشل ٹائمز نے کہا کہ یہ تجویز بعض امریکی حکام کے ساتھ زیرِ بحث آئی تھی اور گذشتہ ماہ کے آخر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے قبل فیلڈ مارشل کو بھی پیش کی گئی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ منصوبے میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کی کوئی شق شامل نہیں بلکہ اس کا مقصد بندرگاہ سے پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال مغربی صوبوں کو جوڑنے کے لیے ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

غزہ منصوبہ: پاکستان سمیت عرب و مسلم ملکوں کا حماس کے ردعمل کا خیرمقدم

اتوار اکتوبر 5 , 2025
Share پاکستان اور سات دیگر عرب و مسلم ممالک نے اتوار کو غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر فلسطینی تنظیم حماس کے ردِعمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دیرپا فائر بندی اور بگڑتی ہوئی انسانی صورت میں مددگار ہونے کا ایک […]

You May Like